ملفوظات (جلد 4) — Page 315
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۵ جلد چهارم کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے تمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی ۔ دنیا کے کا روبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر آیا ہوگا ۔ پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا ۔ خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں ۔ مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قرآن میں لکھا ہے وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات: ۱۳) یعنی تجسس مت کیا کرو ور نہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔ ( مجلس قبل از عشاء ) پنڈت نند کشور سناتن دھرمی سے گفتگو افت تند سے گفتگو پنڈت نند کشور صاحب جو کہ سناتن دھرم مذہب کے ایک عالم فاضل متجر لیکچرار ہیں حضرت صاحب کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے ۔ آتے ہی حضرت صاحب سے سلام و علیکم کیا اور مصافحہ کیا۔ حضرت صاحب نے نسیم دعوت اور سناتن دھرم وغیرہ کی نسبت ان کی رائے دریافت کی۔ پنڈت صاحب نے فرمایا کہ ان کتب میں آپ نے ویسے ہی لکھا ہے جیسے انبیاء کا دستور ہے خدا کے برگزیدوں سے گندے لفظ نکل ہی نہیں سکتے آریہ لوگوں کی مثال انہوں نے یہ دی کہ جیسے کھارے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکل سکتا ۔ اسی طرح وہ لوگ لکھ ہی کیا سکتے ہیں ۔ حضرت اقدس نے آریہ سماج کی نسبت ذکر کیا کہ یہ لوگ بالکل حقیقت ایمان سے بے نصیب ہیں۔ ایمان تو عقلمندوں کی آزمائش آریہ سماج کے لیے ہے کہ کچھ عقل سے کام لیوے اور کچھ ایمان سے معجزات میں یہ عادت اللہ ہرگز نہیں ہے کہ ایسے کام دکھلائے جاویں جو کہ خدا کی عادت کے برخلاف دنیا میں ہوں ۔ مثلاً سوال کرتے ہیں کہ سو یا پچاس سال کے مردہ آکر شہادت دیویں گو کہ یہ ہو تو سکتا ہے مگر سوال ہے کہ جو یا