ملفوظات (جلد 4) — Page 312
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۲ جلد چهارم اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کروں تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔ جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔ کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ور نہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔ دوکانداروں عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں ۔ دھوکا دیتے ہیں ۔ ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں ہے کہ گزارہ نہیں چلتا۔ ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گزارہ نہیں چلتا۔ حالانکہ مومن کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔ یہ تمام راست بازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسا ان کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے۔ خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔ میں نے کئی دفعہ بیماریوں میں آزمایا ہے کہ پیشاب بار بار آرہا ہے دست بھی لگے ہیں ۔ آخر خدا سے دعا کی۔ صبح کو الہام ہوا۔ دُعَاءُكَ مُسْتَجَابُ اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی ۔ یہ خدا کی طاقت ہے ایسا خدا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابلِ قدر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپانے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید ھے کو دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الہی کو فائدہ حاصل ہو۔ یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔ ان کا خدا بولتا نہیں۔ خدا معلوم یہ بھی کیسا ایمان ہے۔ اسلام کا خدا جیسے پہلے تھا ویسے ہی اب ہے۔ نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا ۔ نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ ایسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ لے الحکم میں ہے ۔ "اگر اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا کہ تو ز کہ تو زمین کا پانی نہ پیا کر تو میں ایمان رکھتا ہوں کہ اُس کو آسمان ۔ اسے پانی ملتا “ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) دو الحکم سے ۔ ”عذر رکھ کر معصیت میں مبتلا ہونا یہ سفلی عذر ہے جو شیطان سے آتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسا کرے تو سب کچھ ہوتا ہے۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶)