ملفوظات (جلد 4) — Page 311
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد چهارم رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت میں سے ایک رؤیا اور ایک الہام گھوڑے پر سے گر پڑا پھر آنکھ کھل گئ سوچتا رہا کہ کیا تغیر کریں۔ قیاسی طور پر جو بات اقرب ہو وے لگائی جاسکتی ہے کہ اس اثناء میں غنودگی غالب ہوئی اور الہام ہوا۔ استقامت میں فرق آگیا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلا یا نہیں کرتا میرا کام دعا کرنا ہے۔ ایک نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا شود کی حرمت علم ہے۔ فرمایا۔ حرام ہے ۔ ہاں اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو، نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔ پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دیدے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) ہے۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اسلام میں کروڑہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سودلیا نہ دیا آخران کے حوائج بھی پورے ہوتے رہے کہ نہ؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی طیاری کرتا ہے۔ ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشا ہے ایمان بڑی یا با برکت سے ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرۃ: ۱۰۷) اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بے کار ہے؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے سود تو کوئی ھے ہی نہیں ہے۔ اگر تو کا کی دو لے الحکم سے ۔ ” وہ کبھی ایسی مشکلات میں مبتلانہ مبتلا نہیں ہوتے بلکہ يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ( الطلاق : ۴) اللہ تعالیٰ ہر ضیق سے اُن کو نجات دیتا۔ مات دیتا ہے۔ (الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)