ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 308

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۸ جلد چهارم قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔ جب یہ آیت آئی جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء :(۴۲) آپ روئے اور فرمایا کہ بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔ آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہو گا۔ ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں ۔ آنحضرت نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ؟ ، کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔ سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت نے کیا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے کہ نہیں؟ حضرت ابراہیم آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولود نہ کروایا ؟ اشعار اور نظم پر سوال ہوا تو فرمایا کہ اشعار اور نظم پڑھنا نظم تو ہماری مجلس میں بھی سنائی جاتی ہے آنحضرت نے بھی ایک دفعہ ایک شخص ۔۔۔ خوش الحان کی تعریف سن کر اس سے چند ایک اشعار سنے؟ اشعار سنے پھر فرمایا کہ رحمك الله یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہی ہو جاتا۔ چنانچہ وہ بھی میدان میں جاتے ہی شہید ہو گیا۔ ایک صحابی نے آنحضرت کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔ حضرت عمرؓ نے روکا کہ مسجد میں مت پڑھو۔ وہ غصہ میں آ گیا اور کہا کہ تو کون ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرت کے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نے مجھے منع نہ کیا ۔ حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے ۔ شو کی ایک شخص کا اعتراض پیش ہوا کہ میرزا صاحب شعر کہتے ہیں۔ شعر کہنا فرمایا کہ آنحضرت نے بھی خودشعر پڑھے ہیں۔ پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔ پھر آنحضرت کے کل صحابی شاعر تھے۔ حضرت عائشہ ، امام حسن اور امام حسین کے قصائد مشہور ہیں ۔ حسان بن ثابت نے آنحضرت کی وفات پر قصیدہ لکھا ہے۔ سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔ کسی صحابی کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت نے کسی کو منع نہ فرمایا۔ قرآن کی بہت سی آیات شعروں سے ملتی ہیں۔ ایک نے عرض کی کہ سورۃ شعراء میں آخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے۔ فرمایا کہ وہ مقام پڑھو۔ وہاں خدا نے فسق و فجور کرنے والے شاعروں کی مذمت کی ہے اور