ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 309

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۹ جلد چهارم مومن شاعر کا وہاں خود استثنا کر دیا ہے۔ پھر ساری زبور نظ ساری زبور نظم ہے، یرمیاہ، سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تو رات میں ہیں اس سے ثابت ہوا کہ تم گناہ ہوا کہ نظم گناہ نہیں ہے ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو نہ ہو۔ ہمیں خود الہام ہوتے ہیں ۔ بعض ان میں سے مقفی اور بعض شعروں میں ہوتے ہیں ۔ مجلس قبل از عشاء ) کتے سے مراد ایک طماع آدمی جو کہ تھوڑی سی بات پر راضی اور کتے اور بندر سے مراد تھوڑی سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بندر سے مراد مسخ شدہ آدمی ہے۔ مراد ایک مفسرین سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مسخ شدہ یہود پر پشم بھی پیدا ہو گئی تھی اور ان کی دم بھی نکل آئی تھی بلکہ ان کے عادات مثل بندروں کے ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی امت مثل یہود کے ہوگئی ہے۔ اس سے مراد یہی ہے کہ ان کی خصلت ان میں آگئی ہے کہ مامور کا انکار کرتے ہیں۔ کسر صلیب پر فرمایا کہ کسر صلیب اب ایک ہوا چل پڑی ہے جیسے ہمارے دلوں میں ڈالا ہے کہ میں مر گیا ویسے ہی اب ان کے اہلِ یورپ و امریکہ کے ) لوگوں کے دلوں میں ڈالا ہے۔ اخبار اور رسا۔ ۔ اخبار اور رسالے نکلتے ہیں اور مسیح کی امید لگ رہی ہے سب پکار رہے ہیں کہ یہی زمانہ ہے۔ دانت کی داڑھ نکل کر اگر کانچ کی نظر آوے تو خطرناک ہوا کرتی ہے۔ دانت اگر تعبیر رویا ٹوٹ کر ہاتھ میں رہے تو عمدہ ہے۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب پھر سول اخبار کا بقیہ خواتین کی اصلاح کا طریق مضمون سناتے رہے جس میں اسلام عورتوں کا ذکر تھا اس پر حضرت نے فرمایا کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی عورتیں صالحات میں نہ ہوں، گو تھوڑی ہوں مگر ہوں گی ضرور جس نے عورت کو صالح بنانا ہو وہ آپ صالح بنے ۔ ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ