ملفوظات (جلد 4) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چهارم پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرہ بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے۔ مگر سب کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں۔ انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا نے ہوتا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا۔ اس کو اپنے جیسا را ہوا۔ اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کہ بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا ۔ بلکہ خدا ۔ کر اور تو وعدہ کیا ہے کہ جو اس سے محبت کرتا ہے وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔ آنحضرت نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہو گا جس میں صرف میں ہی ہوں گا ۔ ایک صحابی رو پڑا کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے میں کہاں ہوں گا آپ نے فرمایا کہ تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔ پس سچی محبت سے کام نکلتا ہے ایک مشرک ہرگز سچی محبت نہیں رکھتا۔ میں نے جہاں تک دیکھا ہے وہابیوں میں تیزی اور چالا کی ہوتی ہے۔ خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہوتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں۔ وہ بھی الہام کے منکر ، یہ بھی منکر ۔ جب تک انسان براہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تک پہنچ نہیں سکتا۔ جو شخص خدا پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجاوے۔ دوسرے گروہ میں سوائے قبر پرستی اور پیر پرستی کے کچھ روح باقی نہیں ہے۔ قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ خدا نے امت وسط کہا تھا۔ وسط سے مراد میانہ رو اور وہ دونوں گروہ نے چھوڑ دیا ہے۔ پھر خدا فرماتا ہے ان کنتم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي (ال عمران: (۳۲) کیا آنحضرت نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا ؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے ۔ ہاں آنحضرت نے ایک دفعہ خوش الحانی سے سے لے الحکم میں ہے ۔ مشرک بھی سچی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں رکھ سکتا اور ایسا ہی وہابی بھی نہیں کر سکتا۔ یہ مسلمانوں کے آریہ ہیں اُن میں روحانیت نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ اور اس کے سچے رسول سے سچی محبت نہیں ہے۔ دوسرا گر وہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں ۔ روحانیت ان میں بھی نہیں۔ قبر پرستی کے سوا اور کچھ نہیں ۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵) الحکم جلدے نمبر ۱۱ صفحہ ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے سوال کیا تھا کہ روٹیوں پر فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ نے یہ جواب دیا تھا۔ (مرتب) سے الحکم میں ہے ۔ ں ہے ۔ سوال۔ خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟ دو حضرت اقدس خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے اور بدعات جو ساتھ ملا لیتے ہیں وہ اس عبادت کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ بدعات نکال نکال کر ان لوگوں نے کام خراب کیا ہے۔“ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵ )