ملفوظات (جلد 4) — Page 304
ملفوظات حضرت مسیح موعود نے اردو میں لکھیں اس کی خبر سب کو ہوئی۔ له ولد جلد چهارم میرا اصول ہے کہ جو شخص حکمت اور معرفت کی باتیں لکھنا چاہے وہ جوش سے کام نہ لیوے ورنہ رنسیم دعوت وغیر دعوت وغیرہ لاہور ، بمبئی، کشمیر وغیرہ شہروں اثر نہ ہوگا۔ ہاں بعض امور حقہ برمحل عبارت میں لکھنے پڑتے ہیں مگر الْحَقُّ مُڑ کا معاملہ ہو کر ہم اس میں مجبور ہو جاتے ہیں۔ ۔ میرے میرے : خیال میں سناتن دھرم اور اور میں آریوں کے پاس ضرور روانہ کرنی چاہئیں اگر شائع نہ ہوں تو پھر وہی مثال ہے۔ ز بهر نهادن چه سنگ و چه زر ع ایک سوال پر فرمایا کہ امامت مسجد اور ختم و ذ روغیرہ خدا کے پاک کلام قرآن کو نا پاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے ملاں لوگ پڑھتے ہیں اس ملک کے لوگ ختم وغیرہ دیتے ہیں تو ملاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شور با اور روٹی زیادہ ملے ۔ وَلَا تَشْتَرُوا بِايتي ثَمَنًا قَلِيلًا (البقرة : ۴۲) یہ کفر ہے۔ جو طریق آج کل پنجاب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ ملاں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں ایسا امام شرعاً نا جائز ہے۔ صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اجرت پر امامت کرائی ہو۔ پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ملاں نے نماز جنازہ کی ۶ یاے تکبیریں کہیں۔ لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یا د رہتا ہے کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یادر ہے جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ملا یہاں آکر رہا۔ ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لیے ان کے مرنے پر جو کپڑا دیا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔ اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت رڈی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔