ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 303

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چهارم اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔ مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔ اسی طرح وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت ، حلم ، صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقع ملتا ہے وہ دوسرے کو مل نہیں سکتا۔ اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔ ایک شخص کا ذکر ہے وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی۔ شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پردہ بھی چھوڑ دیا۔ غیر لوگوں سے بھی ملنے لگی ۔ خاوند نے پھر اسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو کہا کہ تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔ یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں ۔ اے ۱۵ مارچ ۱۹۰۳ء (دوران سیر ) لو کتابوں کی اشاعت کے متعلق خلیفہ صاحب سے آریوں کے متعلق لٹریچر کی اشاعت فرمایا که ان کی اشاعت کروایسا نہ ہو کہ صندوقوں میں بند پڑی رہیں ۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آر یہ لوگ ان کتابوں کے جواب میں ایک گالیوں کا طومارلکھیں گے کیونکہ جواب دینے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی ۔ صرف گند ہی گند بولیں گے۔ ہم نے تو نہایت نرم الفاظ میں لکھی ہیں مگر یہ بہتان لگائے بغیر نہ رہیں گے شاید ایک اور کتاب پھر اس کے جواب میں لکھنی پڑے۔ دیانند کو اسلام کی خبر نہیں تھی مگر چونکہ اس نے کتا بیں ناگری زبان میں لکھیں اس لیے لوگوں کو اس کی گندہ زبانی کی خبر نہیں ہے لیکھرام ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۳