ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 291

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۱ جلد چهارم کے نزدیک ان کے بڑے مدارج ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں رکھ کر اگر ان کو اسی کسوٹی پر پرکھا جاوے تو ان کے اخلاق بہت گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے ار اور ثروت کا زمانہ نہ پایا اور نہ اس کے متعلق ان کے اخلاق کا اظہار ہوا۔ ہمیں تو قرآ قرآن شریف مجبور کرتا ہے ورنہ ہم اگر ان کے حالات کے لحاظ سے اور ان کی عام سوانح کی وجہ سے دیکھیں تو وہ تو ایک کامل انسان کے مرتبہ سے بھی گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کجا یہ کہ عیسائی ان کو خدائے قدوس اقتدار کا مرتبہ دے بیٹھے ہیں۔ بھلا ان کا صبر ، ان کی داد و دہش ، ان کی جو دوسخا کا کون سا نمونہ دنیا میں باقی رہا ہے۔ ان کی شجاعت کے اظہار کا کون سا موقع تھا۔ کسی جنگ میں انہوں نے اس امر کا ثبوت دیا۔ لو ان کی بعثت کا زمانہ صرف تین سال تھا اور وہ بھی مصائب کا زمانہ ۔ مقابلہ پر صرف ایک اپنی ہی قوم تھی جو معدودے چند سے زیادہ ہرگز نہ تھی ۔ ان کا پیش کردہ امر بھی ان کے لیے کوئی نرالا نہ تھا جس کی مثال پہلے نہ پائی جاتی ہو ۔ قوم پہلے ہی توحید پسند تھی ان کے خلاق اور ان کے عقائد کا بہت سا حصہ نسبتاً اچھا تھا۔ ان میں خدا ترس ، گوشہ نشین وغیرہ بھی تھے غرض ان کا کام نہایت سہل اور آسان تھا۔ ادھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں سے ۱۳ سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت وثروت اور حکومت کے۔ مقابل میں کئی قو میں ۔ اول تو اپنی ہی قوم تھی ۔ یہودی تھے عیسائی تھے۔ بہت پرست قوموں کا گر وہ تھا۔ مجوس تھے وغیرہ جن کا کام کیا ہے؟ بت پرستی ۔ جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو ان بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔ شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب ۔ بلکہ پانی کے بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔ حرام کو تو شیر مادر جانتے تھے اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔ غرض کل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے ل البدر میں لکھا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسی کی طرف دیکھ لو۔ نصرت کا زمانہ نہیں دیکھا کوئی لڑائی نہیں ہوئی تا کہ ہم اُن کی شجاعت کا اندازہ لگائیں ۔ کسی فتح کا وقت نہیں آیا جس سے ہم دیکھ سکتے کہ وہ کس طرح اپنے دشمنوں کو معاف کر سکتے تھے اور اُن میں عفو کی قوت کسی قدر تھی ۔ اُن کو قیمتیں نہیں ملیں جس سے ہم دیکھ سکتے کہ ان میں قوت سخاوت البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۶۶، ۶۷) کس قدر تھی ۔“ 66