ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 290

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۰ جلد چهارم انہیں سختیوں ہی کی وجہ سے کھولے جاتے ہیں ۔ ه ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است مگر ایسے وقت میں انسان کو چاہیے کہ صبر جمیل کرے اور خدا سے بدظن نہ ہو ۔ وہ لوگ تو خدا کے اسلام کو انعام کے رنگ میں دیکھتے ہیں اور ابتلا میں لذت پاتے ہیں۔ قرب کے مراتب جس طرح جلد ابتلا کے وقت میں طے ہوتے ہیں وہ یوں زہد و تعبد یا ریاضت سے تو سالہا سال میں بھی تمام نہیں کئے جاتے۔ ان لوگوں میں سے جو خدا۔ جو خدا کے قرب کا نمونہ بنے اور خلق کی ہدایت کا تمغہ ان کو دیا گیا یا وہ خدا کے محبوب ہوئے ایک بھی نہیں جس پر کبھی نہ کبھی مصائب اور شدائد کے پہاڑ نہ گرے ہوں ۔ ان لوگوں کی مثال مشک کے نافہ کی سی ہوتی ہے وہ جب تک بند ہے اس میں اور ایک پتھر یا مٹی کے ڈھیلے میں کچھ تفاوت نہیں پایا جاتا مگر جب اس پر سختی سے جراحی کا عمل کیا جاوے اور اس کو چھری یا چاقو سے چیرا جاوے تو معاً اس میں سے ایک خوش کن خوشبو نکلتی ہے جس سے مکان کا مکان معطر ہو جاتا ہے اور قریب آنے والا بھی معطر کیا جاتا ہے۔ سو یہی حال ہے انبیاء اور صادق مومنوں کا کہ جب تک ان کو مصائب نہ پہنچیں تب تک ان کے اندرونی قومی چھپے رہتے ہیں اور ان کی ترقیات کا دروازہ بند ہوتا ہے ان لوگوں کے قومی دو قسم کے موقعوں پر اظہار پذیر ہوتے ہیں ۔ بعض تو مصائب شدائد اور دکھوں کے زمانہ میں اور بعض ان کی کامیابی کے زمانہ میں کیونکہ یک طرفہ کارروائی قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے بچپن سے خوشحالی اور آرام اور آسائش کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں اس کے قومی کا پورا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے اور دوسرا جو بچپن سے غربت کی مار بد حالی میں مبتلا رہا ہے اس کے قومی کا بھی پورا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ کسی شخص کے اخلاق فاضلہ اور اس کے خلق کے متعلق اس کے حالات کا اندازہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس پر انعام و ابتلا ہر دو طرح کے زمانے آچکے ہوں ۔ سو اس امر کے دیکھنے کے لیے بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سی اور کوئی مثال نہیں کیونکہ باقی انبیاء میں سے اکثر ایسے تھے کہ انہوں نے نہایت کار ایک زمانہ دیکھا دوسرے کی نوبت ہی نہیں آئی مثلاً حضرت عیسیٰ ہیں۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ اور پاک نبی تھے۔ خدا