ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 292

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد چهارم عقائد کا عطر ان کے حصہ میں آیا ہوا تھا۔ اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ و تنہا بے یار پھرتے ہیں کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھوکے ہی سور ہے جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بری گت بنتی ہے۔ بے کس اور بے بس۔ ادھر کے ادھر اور ادھر کے ادھر مارے مارے پھرتے ہیں ۔ وطن سے بے وطن کر دیئے گئے ہیں ۔ پھر دوسرا زمانہ تھا کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے کوئی مخالفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو کل عرب کو قتل کر ڈالتے اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں کا بدلہ لینے کا عمدہ موقع تھا۔ جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فرمایا۔ غرض اس طرح سے جو دونوں زمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پر کھے جاتے اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر، استقلال، عفت، حلم، بردباری، شجاعت، سخاوت ، جود وغیرہ وغیرہ غرض کل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ باقی نہ تھا کہ باقی رہ گیا ہو۔ غرض ایسے ایسے مصائب ہیں جو ان کے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت لیے رحمت ہیں اور ان سے ان لوگوں کے اندرونی گن ظاہر ہوتے ہیں۔ دیکھو ! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جنہوں نے ہمیشہ ناز ونعمت میں پرورش پائی تھی اور سید سید کر کے پکارے جاتے تھے۔ انہوں نے بھی تو سختی کا زمانہ نہ دیکھا تھا۔ ان کو ایسے ایسے زمانے دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا کہ وہ ان صحابہ کے مراتب کو پہنچ سکتے ۔ ان کی زمانے کا موقع نہیں ماتھا کہ صحابہ کے پنچ سکتے۔ انکی ساری زندگی ناز و نعمت میں گذری تھی نہ انہوں نے کسی جہاد میں حصہ لیا تھا نہ کسی کفر ہی کو توڑا تھا تو خدا نے جو اُن کو شہید کیا، شہید کیا ، کیا اُن پر ظلم کیا ؟ ہر گز نہیں ۔ انہوں نے پچاس پچپن برس کی عمر تک وہ زمانہ نہ دیکھا تھا کہ شدائد کیا ہوا کرتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ جب صحابہ بکریوں کی طرح ذبح ہوتے تھے تو پھر ان کا کیا حق تھا کہ وہ شہداء میں درجہ پاتے یا کسی طرح کے آخرت میں خدا کے