ملفوظات (جلد 4) — Page 289
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۹ جلد چهارم انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔ تو بہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویا نئی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو ، نہ اس کی وہ زبان ، نہ ہاتھ نہ پاؤں ، سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آجاوے۔ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اور ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ تو بہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں ۔ یہ برکات کا سرچشمہ ہے۔ در حقیقت اولیاء اور صلحاء بھی لوگ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں۔ وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ کامل تو بہ کرنے والا شخص ہی ولی ، قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔ اسی حالت سے وہ خدا کا محبوب بنتا ہے اس کے بعد بلائیں اور مصائب جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں۔ اس سے یہ خیال نہ آوے کہ پھر انبیاء انبیاء اور مومنوں پر مصائب آنے کی حکمت اور نیک مومنوں کوکیوں تکلیفیں آتی ہیں؟ ان لوگوں پر بعض بلائیں آتی ہیں اور ان کے واسطے آثارِ رحمت ہوتا ہے۔ دیکھو! ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسی کیسی مصائب آئی تھیں۔ ان کا گننا بھی کسی بڑے زبردست دل کا کام ہے۔ ان کے نام سے ہی انسان کے بدن پر لرزہ آتا ہے۔ پھر جو کچھ سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہیوں سے ہوئے ان کی بھی تاریخ گواہ ہے۔ کیا کوئی ایسی بھی تکلیف تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پہنچائی نہ گئی ہو؟ جس طرح ان کی ایذاء دہی میں کفار نے کوئی دقیقہ باقی اٹھا نہ رکھا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے کمالات میں کوئی کمی باقی نہ رکھی ۔ اصل میں ان لوگوں میں کے واسطے یہ مصائب اور سختیاں تریاق ہو جایا کرتی ہیں ۔ ان لوگوں کے واسطے خدا کی رحمت کے خزانے ل البدر میں یوں ہے ۔ ” تکالیف مومنوں پر بھی آتی ہیں بلکہ سب سے زیادہ تو نبیوں پر آتی ہیں۔ اس جگہ بعض جلد باز یہ اعتراض کر دیں گے کہ اگر ولیوں نبیوں کو بھی تکالیف پہنچتے ہیں تو پھر تو بہ کا کیا فائدہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نیک لوگوں کو تکالیف پہنچتے ہیں تو وہ ان کو اس انعام کی خوشخبری دیتی ہیں جو کہ ان تکالیف کے بعد خدا تعالیٰ نے ان کو دینا ہوتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ صفحه (۶۶)