ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 281

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۱ جلد چهارم ایسا ہی ہو جاتا ہے کہ آگ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں رہتا اور اگر وہ آگ سے الگ ہو جاوے تو بھی ایک مفید شے ضرور رہتا ہے۔ صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ چرک اس میں نہیں رہتا۔ آگ اپنے رنگ میں لاکر چرک اس سے دور کر دیتی ہے۔ تو بہ کی انتہا فنا ہے۔ جس کے معنے رجوع کے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کے نزدیک ہونا۔ یہی آگ ہے جس سے انسان صاف ہوتا ہے۔ جو شخص اس کے نزدیک قدم رکھنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں آگ سے جل نہ جاوے وہ ناقص ہے لیکن جو قدم آگے رکھتا ہے اور جیسے پروانہ آگ میں گر کر اپنے وجود کو جلاتا ہے ویسے ہی وہ بھی گرتا ہے۔ وہ کامیاب ہوتا ہے۔ مجاہدات کی انتہا فنا ہی ہے۔ اس کے آگے جو لقا ہے وہ امر کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے۔ اس کا روبار کا انتہا مرنا ہے اور مقام لقا تخم ریزی ہے۔ اس کے بعد روئیدن یعنی پیدا کرنا وہ فعل خدا کا ہے۔ ایک دانہ زمین میں جا کر جب بالکل نیست ہوتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ اسے سبزہ بنا دیتا ہے مگر یہ مرحلہ بہت خوفناک ہے۔ بالکل ٹھیک کہا ہے ۔ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود جب آدمی سلوک میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ہا بلا اس پر وارد ہوتی ہیں جیسے جنات اور دیو نے حملہ کر دیا ہے مگر جب وہ شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں اب واپس نہ ہوں گا اور اسی راہ میں جان دے دوں گا تو پھر وہ حملہ نہیں ہوتا اور آخر کا ر وہ بلا ایک باغ میں متبدل ہو جاتی ہے اور جو اس سے ڈرتا ہے اس کے لیے وہ دوزخ بن جاتی ہے۔ اس کا انتہائی مقام بالکل دوزخ کا تمثل ہوتا ہے تا کہ خدا تعالیٰ اسے آزمادے جس نے اس دوزخ کی پروانہ کی وہ کامیاب ہوا۔ یہ کام بہت نازک ہے۔ بجز موت کے چارہ نہیں ۔ کے لو سالہا سال کا میرا تجربہ ہے کہ جو مقام انسان تلاش کرتا ہے وہ مکاشفات میں نہیں ہے وہ تو صرف ایک موهبت الہی ہے اور مرنے کے بعد یہ نصیب ہوتا ہے جب کہ نفسانیت بالکل جل جاوے پھر البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۲