ملفوظات (جلد 4) — Page 279
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۹ جلد چهارم چھوڑ کر بدی اور گند میں رہنا صرف خدا کی نافرمانی ہی نہیں ہے بلکہ اس میں خدا تعالیٰ پر ایمان میں بھی شک ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو ایمان اس میں نہیں ہوتا۔ یا درکھو کہ وسوسہ جو بلا ارادہ دل میں پیدا ہوتے ہیں ان پر مواخذہ نہیں ہوتا جب یکی نیست انسان کسی کام کی کرے تو اللہ تعالیٰ مؤاخذہ کرتا ہے اچھا آدمی وہی ہے جو دل کو ان باتوں سے ہٹا دے۔ ہر ایک عضو کے گناہوں سے بچے۔ ہاتھ سے کوئی بدی کا کام نہ کرے۔ کان سے کوئی بری بات چغلی ، غیبت، گلہ وغیرہ نہ سنے ۔ آنکھ سے محرمات پر نظر نہ ڈالے۔ پاؤں سے کسی گناہ کی جگہ چل کر نہ جاوے۔ بار بار میں کہتا ہوں کہ تم لوگ طاعون سے بے خوف نہ ہو اور یہ شریروں کے لئے مہلت اس دور ختم نہ سمجھو کہ اب اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے۔ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کیوں نہیں آتی اور وہ بدی پر مصر ہیں ان کو وہ ضرور پکڑے گی۔ اس کا دستور ہے کہ اول دور دور رہتی ہے۔ اب دیکھو کہ مکہ میں قحط بھی پڑا ، و با بھی آئی لیکن ابو جہل کا بال بھی با نکا نہ ہوا حالانکہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سخت دشمن تھا۔ چودہ برس تک خدا نے اسے ایسا رکھا کہ سر درد تک نہ ہوا۔ آخر وہاں ہی قتل ہوا جہاں پیغمبر خدا نے اس کا نشان بتایا تھا۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سب کام پردے سے کرتا ہے اگر وہ قہری بجلی ایک دن دکھا دے تو سب ہندو وغیرہ مسلمان ہو جاویں۔ تم میں سے کوئی تکبر اور غرور سے یہ نہ کہے کہ مجھے طاعون نہیں آتی ۔ خدا تعالیٰ شریروں کو اس لیے مہلت دیتا ہے کہ شاید باز آجاویں اور ہدایت ہو۔ لے لے الحکم سے ۔ ”جو لوگ یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو ہم کو ہمارے گناہوں کے بدلے کیوں عذاب نہیں دیتا اور نہیں پکڑتا۔ وہ دلیری کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کے کام آہستہ اور پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ اگر وہ قہری تجلی کرے تو یک لحظہ میں تباہ کر دے۔ دنیا میں بھی سارے کام تدریجی ہوتے ہیں اگر ایک شخص گڑیا ریوڑیاں تقسیم کرے تو یکدم سب کو نہیں دے دیتا بلکہ ایک ایک کر کے ۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ کا حال ہے۔ پہلے وہ دُور دُور بلائیں بھیجتا ہے تا کہ بعض سعید الفطرت لوگوں کو جو کسی شامت اعمال میں گرفتار ہو گئے ہیں تو بہ واستغفار کا موقع ملے وہ بچ جاتے ہیں اور الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴) شریر پکڑے جاتے ہیں ۔“ 66