ملفوظات (جلد 4) — Page 278
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۸ جلد چهارم اب ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ شطرنج گنجفہ وغیرہ بیہودہ باتوں میں وقت گزارتے ہیں۔ ان کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ اگر ہم ایک گھنٹہ نمازوں میں گزار دیں گے تو کیا حرج ہوگا؟ سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچاتا ہے اگر پتھر بھی برسیں تو بھی اسے ضرور بچاوے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو سچے اور جھوٹے میں کیا فرق ہو سکتا ہے؟ لیکن یاد رکھو کہ صرف ٹکریں مارنے سے خدا راضی نہیں ہوتا۔ کیا دنیا اور کیا دین میں جب تک پوری بات نہ ہو فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ جیسے میں نے کئی بار بیان کیا ہے کہ روٹی اور پانی جب تک سیر ہو کر نہ کھائے پیئے تو وہ کیسے بچ سکتا ہے؟ یہ موت طاعون کی جو اب آئی ہے یہ اس وقت ملے گی کہ انسان قدم پورا ر کھے کے ادھورے قدم کو خدا پسند نہیں کرتا۔ جو بات طاقت سے باہر ہے وہ تو خدا معاف کر دے بدی کو خدا کے خوف سے چھوڑ دو گا۔ مگر جو طاقت کے اندر ہے اس سے مؤاخذہ ہوگا جب انسان نیک بنتا ہے تو دائیں بائیں آگے پیچھے خدا کی رحمت اور فرشتے ہوتے ہیں سچا مومن ولی کہلاتا ہے اور اس کی برکت اس کے گھر اور اس کے شہر میں ہوتی ہے۔ جو خدا کو ناراض کرتا ہے وہ نجاست کھاتا ہے۔ اگر انسان بدی کو خدا کے خوف سے چھوڑ دے تو خدا اس کی جگہ نیک بدلہ اسے دیتا ہے۔ مثلاً ایک چور اگر چوری کرتا ہے اور وہ چوری کو چھوڑ دیوے تو پھر خدا اس کی وجہ معاش حلال طور سے کر دے گا ۔ اسی طرح زمینداروں میں پانی وغیرہ چرانے کا دستور ہوتا ہے اگر وہ چھوڑ دیویں تو خدا ان کی کھیتی میں دوسری طرف سے برکت دے دے گا۔ ایک نیک متقی زمیندار کے واسطے خدا تعالیٰ بادل کا ٹکڑا بھیج دیا کرتا ہے اور اس کے طفیل دوسرے کھیت بھی سیراب ہو جاتے ہیں خدا کو اء الحکم سے ۔ ”دیکھو آج کل طاعون بڑی خوفناک پڑی ہوئی ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اُس کو بچالے گا۔ عذاب الہی سے بچنے کے لیے فقط زبانی اقرار ہی کافی نہیں اور نہ اُدھوری نمازیں کافی ہو سکتی ہیں ۔ بھلا ایک شخص جس کو پیاس شدت کی لگی ہوئی ہو کیا ایک قطرہ پانی سے وہ اپنی پیاس بجھا سکتا ہے؟ یا سخت بھوک لگی ہوئی ہو تو ایک ذرہ بھر اناج سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ اسی طرح پر کوئی شخص اُدھوری اور ناقص نمازوں سے اپنے آپ کو پ اللہ تعالیٰ کے غضب سے نہیں بچا سکتا پس اپنی نمازوں کو درست کرو ہر ایک قسم کی شکایت گلہ، ، گلہ، غیبت ، جھوٹ ، افترا، بد نظری وغیرہ سے اپنے تئیں بچائے رکھو۔“ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۴)