ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 277

ملفوظات حضرت مسیح موعود کلمة الله کلمۃ اللہ پر فرمایا کہ ۲۷۷ جلد چهارم وجودیوں کی طرف تو ہم نہیں جاتے مگر جب تک کلمۃ اللہ نہ کہا جاوے تو بات بھی نہیں بنتی ۔ یہ علم بہت گہرا ہے۔ جو شھے خدا سے نکلی ہے اس پر رنگ تو خدا کا ہے مگر یہ لوگ اسے خدا سے الگ خیال نہیں کرتے ۔ فیض کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت ہو۔ لے ۱۶ مارچ ۱۹۰۳ء جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کے بعد چند ایک گردو نواح کے بلاؤں سے بچنے کا طریق آدمیوں نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد حضرت اقدس کے ہو گئے اور آپ نے ان کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اقدس کھڑے جب آدمی تو بہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے پہلے گناہ بخش دیتا ہے۔ کے قرآن میں اس کا وعدہ ہے ہر طرح کے دکھ انسان کو دنیا میں ملتے ہیں۔ مگر جب خدا کا فضل ہوتا ہے تو ان سب بلاؤں سے انسان بچتا ہے۔ اس لیے تم لوگ اگر اپنے وعدہ کے موافق قائم رہو گے تو وہ تم کو ہر ایک بلا سے بچالے گا۔ نماز میں رہو۔ پکے رہو۔ جو مسلمان ہو کر نماز نہیں ادا کرتا ہے وہ بے ایمان ہے۔ اگر وہ نماز نہیں ادا کرتا تو بتلاؤ کہ ایک ہندو میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ زمینداروں کا دستور ہے کہ ذرا ذرا سے عذر پر نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ کپڑے ناپاک سے کا بہانہ کرتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے اگر کسی کے پاس کپڑے نہ ہوں تو اسی میں نماز پڑھ لے اور جب دوسرا کپڑا مل جاوے تو اس کو بدل دے۔ اسی طرح اگر غسل کرنے کی ضرورت ہو اور بیمار ہو وے تو تیم کرلے۔ خدا نے ہر ایک قسم کی آسانی کر دی ہے تا کہ قیامت میں کسی کو عذر نہ ہو۔ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۱ الحکم سے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو طرح طرح کی ذلتوں اور خواریوں سے بچالیتا ہے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴) سے اس جگہ البدر میں جو لفظ ہے وہ ٹھیک پڑھا نہیں جاتا۔ الحکم میں یہ فقرہ واضح ہے جو یہ ہے۔ کپڑوں کے میلا ہونے کا عذر کر دیتے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴)