ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 272

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۲ جلد چهارم کے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دور کر دیتا ہے بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے۔ دیکھو! ایمان جیسی کوئی چیز نہیں ۔ ایمان سے عرفان کا پھل پیدا ایمان و عرفان کی حقیقت ہوتا ہے۔ ایمان و مجاہدہ اور کوشکو چاہتا ہے اور عرفان خدا تعالی کی موہبت اور انعام ہوتا ہے عرفان سے مراد کشوف اور الہامات جو ہر قسم کی شیطانی آمیزش اور ظلمت کی ملونی سے مبرا ہوں اور نور اور خدا کی طرف سے ایک شوکت کے ساتھ ہوں وہ مراد ہیں۔ اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے موہبت اور انعام ہوتا ہے۔ یہ چیز کچھ کسی چیز نہیں مگر ایمان کسی چیز ہوتا ہے اسی واسطے اوامر ہیں کہ یہ کرو۔ غرض ہزاروں احکام ہیں اور ہزاروں نواہی ہیں ۔ ان پر پوری طرح سے کار بند ہونا ایمان ہے۔ غرض ایمان ایک خدمت ہے جو ہم بجالاتے ہیں اور عرفان اس پر ایک انعام اور موہبت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ خدمت کئے جاوے۔ آگے انعام دینا خدا کا کام ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہونا چاہیے کہ وہ اس انعام کے واسطے خدمت کرے۔ مکاشفات اور الہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ خدا کی محبت میں محو ہو جاؤ کرنی چاہیے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرانا نہ چاہیے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم میں ایک عاشق صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھوکا مرتا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پانی کی پروا، نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر ۔ اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤ کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جاوے۔ پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پروا ۔ دیکھو ! جس طرح ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذت اٹھاتا ہے اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر پیو۔ جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہونے والے بنو ۔ جب تک انسان اس امر کو محسوس نہ کر لے کہ میں محبت