ملفوظات (جلد 4) — Page 273
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۳ جلد چهارم کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہر گز نہ ہٹے ۔ قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اُس س جام جام کو کومنہ کو منہ منہ سے سے نہ ہٹائے۔ ۔ا۔ اپنے آپ کو اس کے لیے بے قرار را رو و شیدا شید اوم و مضطرب بنالو۔ اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں ۔ ایسی محبت ہو کہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ ہو نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے خوف کا تمہیں خوف کے ہو چنانچہ کسی کا شعر ہے کہ ه آن کس که تر ا شناخت جان را چه را شناخت جان را چه گند فرزند و عیال و خانمان را چه دیوانه کنی هر دو جهانش بخشی گند دیوانہ تو ہر دو جهان را چه گند میں تو اگر اپنے فرزندوں کا ذکر کرتا ہوں تو نہ اپنی طرف سے بلکہ مجھے تو مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔ کیا کروں اگر اس کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہ گار ٹھہروں ۔ چنانچہ ہر لڑکے کی پہلے اُسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی۔ اب میں کیا کروں ۔ غرض انسان کا اصل مدعا صرف یہی چاہیے کہ کسی طرح خدا کی رضا مل جاوے۔ نه شبم نه شب پرستم که حدیث خواب گویم ہے مدار نجات مدار نجات صرف یہی امر ہے کہ سچا تقوی اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت ل البدر سے۔ پس تعلق محبت ا یہ تعلق محبت ایک چیز ہے ؟ ہے جو کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ ہماری جماعت میں زیادہ ہو جب تک انسان محسوس نہ کرے کہ وہ محبت جس کا نام عشق ہے اس نے اسے بے قرار کر دیا ہے تب تک اس نے کچھ نہیں پایا۔ ہزارہا کشوف وغیرہ ہوں کچھ شے نہیں ہیں ۔ ہم تو ایک دمڑی کو نہیں خریدتے کیا عمدہ کہا ہے ۔ آن کس که که تر اشناخت جان را چه چه گنا گند به کند فرزند و عیال و خانمان را چه میں جو کبھی فرزندوں کا ذکر کیا کرتا ہوں یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اتفاقی طور پر ان کا ذکر پیشگوئیوں میں آ گیا ہوا ہے ورنہ مجھے اس بات کی کچھ آرزو اور ہوس نہیں ہوتی ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۱ ) البدر میں اس کا پہلا مصرعہ بھی لکھا ہے۔ من ذره از آفتابم هم از آفتاب گویم نہ شبم نه شب پرستم که حدیث خواب گویم البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۱ )