ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 271

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۱ جلد چهارم ہیں۔ بیوی ہے، بچے ہیں اور اور شتہ دار ہیں۔ مگر تا ہم جو چند روز بھی ہمارے پاس رہتا ہے اس کے جدا ہونے سے ہماری طبیعت کو صدمہ ضرور ہوتا ہے ہم بچے تھے اب بڑھاپے تک پہنچ گئے ہیں ہم نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ انسان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ انسان خدا کے ساتھ تعلق پیدا کر لے۔ ساری عقدہ کشائیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی دعا اور تو گل ہے تو کیا ہے۔ صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتے ۔ ہمارے بس میں ایک ذرہ بھر بھی نہیں ہے۔ مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔ انسان کو مشکلات کے وقت اگر چہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تو کل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقع پر سخت اضطراب ہوا تھا۔ چنانچہ عرض کرتے تھے کہ يَارَبِّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا - مگر آپ کا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف تو کل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔ انسان کو طرح طرح ل البدر میں ہے۔ خدا کے بندے مایویں اور ضائع نہیں ہوتے اگرچہ انسان کو بشریت کے تقاضا سے اضطراب ہوتا ہے وہ خاصہ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں جیسے کہ جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اضطراب ہوا تھا۔ عام لوگوں میں اور انبیاؤں میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیاؤں کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی ۔ ان کو اس امر پر پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا ضائع کبھی نہ کرے گا۔ میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا۔ اضطراب تو ہو گا کہ آگ ہے اس سے انسان جل جاتا ہے مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گی پنار کونی بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لیکن دوسرے لوگوں کے اضطراب میں پاس ہوتا ہے۔ خدا پر ان کو توقع نہیں ہوتی اور یہ گفر ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۱ )