ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 270

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٢٧٠ جلد چهارم بناتے ہیں خصوصاً سکھ لوگ ۔ مگر ہماری شریعت کیا پاک ہے کہ جس جگہ سے کسی قسم کی بدی کا احتمال بھی تھا اس سے بھی منع کر دیا۔ بھلا یہ باتیں کسی اور میں کہاں پائی جاتی ہیں ۔ لے کے ۱۵ مارچ ۱۹۰۳ء ( در بار شام) حضرت اقدس نے فارسی میں فرمایا لہذا اس کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ دوستوں کی جدائی پر غمگین ہونا فرمایا۔خدا تعال سے نے یہ بات میرے دل میں ڈالی ہے اور میری فطرت میں رکھ دی ہے کہ جب کوئی دوست مجھ سے الگ ہونے لگتا ہے مجھے سخت قلق اور درد محسوس ہوتا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ خدا جانے زندگی کا بھروسہ نہیں۔ پھر ملاقات نصیب ہوگی یا نہیں۔ پھر میرے دل میں خیال آجاتا ہے کہ دوسروں کے بھی تو حقوق ل البدر میں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی کہ خواب میں میں نے اپنی مونچھوں کو کترے ہوئے دیکھا ہے۔ فرمایا کہ لبوں کے کترنے سے مراد انکساری اور تواضع ہے زیادہ لب رکھنا تکبر کی علامت ہے جیسے انگریز اور سکھ وغیرہ رکھتے ہیں پیغمبر خدا نے اسی لیے اس سے منع کیا ہے کہ تکبر نہ رہے اسلام تو تو اضع سکھاتا ہے جو خواب میں دیکھے تو اس میں فروتنی بڑھ جاوے گی۔ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۰ ) الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ سے (البدر سے ) ایک خادم نے حضرت اقدس سے رخصت طلب کی۔ ان کا وطن یہاں سے دور دراز تھا اور ایک عرصہ سے آکر حضرت کے قدموں میں موجود تھے ان کے رخصت طلب کرنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کی فطرت میں یہ بات ہوتی ہے اور میری فطرت میں بھی ہے کہ جب کوئی دوست جدا ہونے لگتا ہے تو دل میرا غمگین ہوتا ہے کیونکہ خدا جانے پھر ملاقات ہو یا نہ ہو اس عالم کی یہی وضع پڑی ہے خواہ کوئی ایک سوسال زندہ رہے آخر پھر جدائی ہے مگر مجھے یہ امر پسند ہے کہ عیدالاضحی نزدیک ہے وہ کر کے آپ جاویں جب تک سفر کی تیاری البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه (۶۰) کرتے رہیں ۔ باقی مشکلات کا خدا حافظ ہے۔“ 66