ملفوظات (جلد 4) — Page 269
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۹ جلد چهارم اٹھاتا ہے، خدا سے نورا ترتا ہے۔ اپنے فرشتوں کو اس کی خدمت کے واسطے مامور فرماتا رض ہے۔ جو اس کے واسطے کچھ کھوتا ہے اس کو اس سے ہزار چند دیا جاتا ہے۔ دیکھو صحابہ میں سے سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا تھا اور کمبل پوش بن پھرا تھا مگر جب خدا نے اسے دیا تو کیا دیا۔ دیکھ لو کیسی مناسبت ہے کہ اس نے چونکہ سب صحابہ سے اول خرچ کیا تھا اسے سب سے پہلے خلافت کا تخت عطا کیا گیا۔ غرض خدا کوئی بخیل نہیں اور نہ اس کے فیض خاص خاص ہیں بلکہ ہر ایک جو صدق دل سے طالب بنتا ہے اسے عزت دی جاتی ہے ۔ یہ ہمارے دشمن تو اللہ تعالیٰ سے جنگ کرتے ہیں بھلا ان سے آسمانی باتیں اور تائیدات روکی جاسکتی ہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ پرنالہ کے پانی کو تو کوئی روک بھی سکتا ہے مگر جو آسمان سے موسلا دھار بارش ہونے لگ جاوے اس کو کون روک سکے گا اور اس کے آگے کون سا س کے آگے کون سا بند لگاویں گے؟ ہمارا تو سارا کا روبار ہی آسمانی ہے پھر بھلا کسی کی کیا مجال کہ اس میں کسی قسم کا حرج یا خلل واقع کر سکے ۔ ایک خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ لبی مونچھوں کی تعبیر اصل مں زیادہ کہی ہیں (مونچھیں رکھنا بھی کر اور خون کو بڑھاتا ہے اسی واسطے شریعت اسلام نے فرمایا ہے کہ مونچھیں کٹواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ ۔ یہ یہود اور یہ عیسائی اور ہندوؤں کا کام ہے کہ وہ اکثر تکبر سے مونچھوں کو بڑھاتے اور تاؤ دے دے کر ایک متکبرانہ وضع ل البدر میں بعض مزید باتوں کا ذکر ہے وہاں لکھا ہے کہ حضور نے فرمایا۔ تجربہ ہے کہ جب ہندوؤں میں سے مسلمان ہوتے ہیں تو وہ متقی ہوتے ہیں جیسے مولوی عبید اللہ صاحب ۔ سناتن دہرم والے زوائد کو چھوڑ کر وہ تمام باتیں مانتے ہیں جن کے ہم قائل ہیں ۔ خدا کو خالق مانتے ہیں ۔ فرشتوں پر بھی ان کا ایمان ہے۔ نیوگ کے سخت مخالف ہیں ۔ جو لوگ اخلاص سے اسلام میں داخل ہوتے ہیں وہ کوئی شرط نہیں باندھتے جو شرطیں پیش کر کے اسلام لانا چاہتا ہے وہ ضرور کھوٹ رکھتا ہے۔ آسمان سے بارش ہو یا ہوا چلے تو کوئی روک نہیں سکتا لیکن پر نالہ وغیرہ کا پانی روکا جاسکتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۰ )