ملفوظات (جلد 4) — Page 262
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۲ جلد چهارم دی کہ سارا جہان اس کا شہد کھاتا ہے یہ صرف اس کی طرف جھکنے کی وجہ سے ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ ہر وقت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : (۵) کی دعا پر کار بند رہے اور اسی سے توفیق طلب کرے۔ ایسا کرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا مظہر بھی بن سکتا ہے۔ چاند جب آفتاب کے مقابل میں ہوتا ہے تو اسے نور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔ یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازہ پر گرار ہے اور اپنے آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب تک اللہ تعالیٰ اسے اُٹھاتا اور نوازتا ہے ورنہ جب وہ اپنی قوتِ بازو پر بھروسا کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔' كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ صادق کی معیت سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔ پس یہ ضروری بات وری بات ہے کہ انسان با وجود علم کے اور با وجود قوت و شوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔ سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔ صادق کی معیت کے میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے لیے الہبدر سے۔ عیسائیوں کی عقل کیسی تیز ہے کیسی کیسی صنعتیں ایجاد کی ہیں گو یا بالکل دنیا کو نیا کر دیا ہے۔ ہر ایک پرانی ھے کی جگہ ایک نئی تھے موجود ہے مگر چونکہ دینی معاملات میں خدا سے مدد نہ مانگی گھمنڈ اور فخر کیا اس لیے عقل آخر کار ماری گئی کہ کوے کی طرح نجاست پر دانت مارا ۔ سب پڑھ پڑھا کر ڈبو دیا۔ اس لیے اپنی رائے مارا۔ ڈبودیا۔ لے اور فیصلہ پر بھروسا نہ کرنا چاہیے۔ ہر ایک نبی میں یہ کمال تھا کہ ہر وقت خدا پر بھروسا رکھتے ۔ اپنی عقل اور طاقت نبی یہ تھا خدا پر پر ان کو ذرہ بھر اعتبار نہ تھا۔ چونکہ وہ ہر وقت خدا سے مدد مانگتے ہیں ۔ اسی لیے ہر وقت اُن کو خدا سے مدد ملتی ہے خدا کے بغیر کوئی طاقت اور مدد نہیں ملتی اگر عقل پر گھمنڈ کرے گا تو شہد کی مکھی کی جگہ نجاست کی مکھی کی طرح ہوگا۔ لیکن اگر خدا سے مدد چاہے گا تو ایک نورا سے ملے گا کہ جس سے مدد پا کر وہ بڑی بڑی تجلیات الہی کا اگر مظہر بن جاوے تو سچ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۹) ہے۔“ ور 66 البدر سے ۔ ”صادقوں کی صحبت میں رہنا بہت ضروری ہے خواہ انسان کیسا علم رکھتا : کھتا ہو۔ طاقت رکھتا ہو لیکن صحبت میں رہنے سے جو اس کے شبہات دور ہوتے ہیں اور اسے علم حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے طور سے حاصل نہیں ہوتا ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۹)