ملفوظات (جلد 4) — Page 261
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۱ جلد چهارم کوشش کرتی اور جانکاہ محنتوں سے ان کے حصول کے ذریعہ کو سوچتی ہے۔ مگر دین کیا ایسا ہی گیا گذرا امر ہے کہ اس کے واسطے اتنی بھی تکلیف نہ برداشت کی جاوے کہ چند روز کے واسطے ایک جگہ رہ کر اسلام کی تحقیق کی جاوے۔ ایک بیمار انسان جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو مریض کی اگر طبیب تشخیص کر بھی لیوے تو معالجہ میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا دوادی جاوے؟ ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی کسی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی راہبر کا ضرورت الہام محتاج ہوتا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کرنے اور خدا کی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکو نسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا صرف سفلی عقل کافی ہوسکتی ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خودا اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا۔ دیکھو! جب تک آسمان سے پانی نازل نہ ہوز مین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گوبیچ اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو بلکہ زمین کا پانی بھی دور چلا جاتا ہے تو کیا روحانی بارش کے بغیر ہی روحانی زمین سرسبز ہو جاتی اور بار آور ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ۔ دیکھو! یہ جو اتنے بڑے عاقل کہلاتے ہیں اور بڑے موجد ہیں آئے دن تار نکلتی ہے ریل بنتی ہے اور انسانی عقل کو حیران کر دینے والے کام کئے جاتے ہیں کیا ان کی عقل کے برابر بھی کوئی اور عقل ہے؟ جب ایسے عاقل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک عاجز انسان کو جو ایک عورت کے پیٹ سے عام لڑکوں کی طرح سے پیدا ہوا تھا اور اسی طرح عوارض وغیرہ کا نشانہ بنا رہا اور کھانا پینا ا سب کچھ کرتا ہوا یہودیوں کے ہاتھ سے سولی پر چڑھایا گیا تھا اس کو خداوند بنایا ہوا ہے اور اس کے کفارہ سے اپنی نجات جانتے ہیں اور ایسی بودی چال اختیار کی ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسی کرے۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟ صرف یہی کہ انہوں نے سفلی عقل پر ہی بھروسا کیا اور ایک کوے کی طرح نجاست پر گر پڑے۔ دیکھو! جب انسان خدا سے مدد چاہتا ہے اور اپنے آپ کو عاجز جانتا ہے اور گردن فرازی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کرتا ہے ایک مکھی ہے کہ گندگی پر گرتی ہے اور دوسری کو خدا نے عزت