ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 263

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۳ جلد چهارم نشانات دیے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔ لے ۳ مارچ ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) حضرت صاحب تشریف لائے تو کل کے نو وارد مہمان بھی ہمراہ سیر کو چلے آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ ایک دن آنے کا ہے اور ایک دن جانے کا ہے معلوم نہیں کب مرنا ہے۔ علم ایک طاقت انسان کے اندر ہے۔ اس کے اُو پر وساوس اور شبہات پڑتے ہیں۔ عادتوں کے کیڑے مثل برتن کی میل کی طرح انسان کے اندر چمٹے ہوئے ہیں ۔ اس کا علاج یہی ہے کہ کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) پس اگر آپ چند روز یہاں ٹھہر جاویں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟ اس طرح ہر ایک بات کا موقع آپ کو مل جائے گا دنیا کے کام تو یونہی چلے چلتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ کار دنیا کیسے تمام نہ کرد هرچه گیرید مختصر گیرید بہت لوگ ہمارے پاس آئے اور جلد رخصت ہونے لگے ۔ ہم نے ان کو منع کیا مگر وہ چلے گئے ۔ آخر کار پیچھے سے انہوں نے خط روانہ کئے کہ ہم نے گھر پہنچ کر بنایا تو کچھ نہیں اگر ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارا جلدی آنا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ ه یہ مرحلہ اس لئے قابلِ طے ہے کہ آنحضرت نے مسیح موعود کی صحبت میں رہنے کی تاکید بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جب نمی ختم ہونے دنیا پر ہوگی تو اس اُمت میں سے مسیح موعود پیدا ہوگا ۔ لوگوں کو چاہیے کہ اس کے پاس پہنچیں خواہ ان کو برف پر چل کر جانا پڑے۔ اس لیے صحبت میں رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے۔ پاس رہنے سے باتیں جو ہوں گی ان کو سنے گا جو کوئی نشان ظاہر ہوا سے سوچے گا۔ آگے ہی زندگی کا کون سا الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳