ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 256

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد چهارم تھے اب ایسا تفرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اندرونی کشش جو ایک دوسرے میں تھی باقی نہیں رہی ہے بلکہ تعصب اور دشمنی بڑھ گئی ہے پس جب کہ کوئی حصہ انس اور کشش کا ہی باقی نہ ہوا اور ہار جیت مقصود ہو تو پھر اظہا ر حق کس طرح ہو سکتا ہے۔ اظہار حق کے لئے ضروری امور اظہارت کے واسطے یہ ضروری امر ہے کہ تعصب سے اندر خالی ہو اور بغض اور عناد نہ ہو۔ست است کے نرنے کے لیے بحث کا تو نام بھی درمیان میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اس کو چاہیے کہ بحث کو چھوڑ دے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں اور یہی میرا مذہب ہے کہ ایک اور غلطی میں لوگ پڑے ہوئے ہیں کسی مذہب پر حملہ کرتے وقت وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جو حملہ ہم کرتے ہیں اس مذہب کی کتاب میں بھی ہے یا نہیں؟ مسلمہ کتب کو چھوڑ دیتے ہیں اور کسی شخص کی ذاتی رائے کو لے کر اس کو مذہب کی خبر بنا دیتے ہیں۔ ہیںاور کولے اس ہم بہت سی باتوں میں آریہ مذہب کے خلاف ہیں اور ہم ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم ان کو وید پر نہیں لگاتے ہم کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ہاں پنڈت دیا نند پر ضرور لگاتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے ہم تو اس عقیدہ کے خلاف کہتے ہیں جو شائع کر دیا گیا ہے کہ یہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے اسی طرح پر آریوں کو اگر کوئی اعتراض کرنا ہو تو چاہیے کہ وہ قرآن شریف پر کرے یا اس عقیدہ پر جو ہم نے مان لیا ہو اور اس کو شائع کر دیا ہو یہ مناسب نہیں کہ جس بات کو ہم مانتے ہی نہیں خواہ نخواہ ہمارے عقیدہ کی طرف اس کو منسوب کر دیا جاوے۔ چونکہ بہت سے فرقے ہو گئے ہیں اس لیے جس نے ایک اصول مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے مان لیا ہے اس پر اعتراض کرنا چاہیے اس لئے مباحثہ کے وقت کتاب کا نام لے۔ تفسیروں اور بھاشوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر اختلاف ہے۔ اگر اس اصل کو مد نظر رکھا جاوے تو سامعین فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ جب تک کتاب کو کسی نے سمجھا اور پڑھا ہی نہیں اس پر وہ اعتراض کرنے کا حق کس طرح رکھ سکتا ہے ۔ مذہب کے معاملہ میں یہ ضروری بات ہے کہ مانی ہوئی اصل پر بحث کریں ۔ اگر چہ یہ ضروری نہیں کہ کل کتابیں پڑھی جاویں اس کے لیے