ملفوظات (جلد 4) — Page 257
ملفوظات حضرت مسیح موعود تو عمر بھی وفا نہیں کر سکتی ۔ ۲۵۷ جلد چهارم لو مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے جو بطور بحث کے ہیں۔ اور چونکہ عام مجمعوں میں حق کو مشتبہ رکھا جاتا ہے انسان ضد اور تعصب سے کام لیتا ہے میں نے خدا سے عہد کر لیا ہے کہ اس طریق کو چھوڑ دیا جاوے۔ یہ کتاب سے میں نے اصول مباحثہ کے لحاظ سے لکھی ہے۔ اور اسی طریق سے جو میں نے پیش کیا ہے بحث کی ہے جو لوگ ہم کو گالیاں دیتے ہیں ہم ان کی گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہم سے تو گالیوں کی قوت ہی کھو دی ہے۔ کس کس کی گالی کا جواب دیں۔ سے ہے ۲ مارچ ۱۹۰۳ء ( صبح کی سیر ) ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے مسیح موعود کے ذریعہ خانہ کعبہ کی حفاظت ایک دوست نے کہا ہے کہ تم توجہ کرنے لکھا ل البدر سے۔ مناظرین نے لکھا ہے کہ فروعات میں بحث کرنا ہی فضول ہے۔ فروعات کی مثال تو لشکر کی ہے جن کے افسر اصول ہیں۔ جب اصول میں فیصلہ ہو جاوے تو فروع میں خود ہو جاتا ہے جیسے جب افسر ما را جاوے تو سپاہی خود تابع ہو جاتے ہیں۔ میں کوئی بات نہیں کرتا جب تک خدا تعالیٰ اجازت نہ دے اگر میں نے مباحثہ میں جانا ہوتا تو کتاب (نسیم دعوت ) شائع نہ کرتا۔ ،، ( البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۸ کالم اول ) ور ہے ( یعنی نسیم دعوت - مرتب ) البدر سے۔ جب یہ آریہ صاحبان تشریف لے گئے تو کچھ اور صاحب آئے۔ ان کے سوالات کا جواب حضرت اقدس نے ذیل کے مختصر فقرات میں دیا۔ با وجود اختلافات رائے کے حق کی رو رعایت رکھنا اس بات کو آپ کتاب نسیم دعوت میں دیکھیں ۔ گے۔ خدا نے اب ہم سے گالیوں کی قوت ہی دور کر دی ہے اور نہ ہم ہر ایک کو الگ الگ جواب دے سکتے ہیں۔ اب کروڑ ہا آدمی گالی دے رہے ہیں کس کس کو جواب دیویں ۔ میرا تعلق آریہ سماج سے ہے نہ کہ وید سے کیونکہ وید سے میں واقف نہیں ہوں ۔“ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۵۸)