ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 255

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۵ جلد چهارم ہے دنیا میں اگر کسی معاملہ میں اتفاق بھی کرتے ہیں تو اس کی بار یک دربار یک جزئیوں تک پہنچنا محال ہو جاتا ہے اور جزئی در جزئی نکلتی چلی آتی ہے۔ تبادلہ خیالات کے لیے مجمعوں میں تقریریں کرنی بھی اچھی چیز ہیں لیکن ابھی تک ہمارے ملک میں ایسے مہذب لوگ بہت ہی کم ہیں بلکہ نہیں ہیں جو آرام اور امن کے ساتھ اپنی مخالف رائے ظاہر کر سکیں۔ میں نے خود یہ چاہا تھا اور میرا ارادہ ہے کہ قادیان میں ایک جگہ ایسی بناویں جہاں مختلف لوگ مذاہب کے جمع ہو کر اپنے اپنے مذہب کی صداقت اور خوبیوں کو آزادی سے بیان کر سکیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اگر اظہار حق کے لیے مباحثے اور تقریریں ہوں تو بہت اچھی بات ہے مگر تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان میں فتنہ وفساد کا مظنہ ہوتا ہے اس لیے میں نے ان مباحثوں کو چھوڑ دیا ہے ممکن ہے دو چار آدمی ایسے بھی ہوں جو صبر اور نرمی کے ساتھ اپنے مخالف کی بات سن لیں لیکن کثرت ایسے لو لوگوں کی ہوگی جو عوام الناس میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتے خواہ وہ کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو۔ چونکہ جب مخالف بیان کرے گا تو کوئی نہ کوئی لفظ اس کے منہ سے ایسا نکل سکتا ہے جو اس کے فریق مخالف کی غلطی کے اظہار میں ہوگا اور اس سے عوام میں جوش پھیل جاتا ہے ایسی جگہ تو تب امن رہ سکتا ہے جب سمجھانے والا اور سمجھنے والا اس طرح بیٹھیں کہ جیسے باپ بیٹے میں کوئی برائی دیکھتا ہے اور اس کو سمجھاتا ہے تو وہ نرمی اور صبر سے اس کو سن لیتا ہے ایسی محبت کی کشش سے البتہ فائدہ ہوتا ہے غیظ و غضب کی حالت میں یہ امید رکھنا کہ کوئی فائدہ ہو خام خیال ہے۔ اب مشکل آ کر یہ پڑی ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کے باہم تعلقات میں ابتری ایک تو دین کا اختلاف ہی ہے پھر اس پر احقاق حق لوگوں کی غرض نہیں رہی بلکہ بغض و عناد میں اس قدر ترقی کی گئی ہے کہ اپنے فریق مخالف کا نام بھی ادب یا عزت سے لینا گناہ سمجھا جاتا ہے میں دیکھتا ہوں کہ بڑی بے ادبی اور گستاخی سے بات کرتے ہیں پہلے ہندو مسلمانوں میں ایسے تعلقات تھے کہ برادری کی طرح رہتے