ملفوظات (جلد 4) — Page 254
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۴ جلد چهارم ہو سکتا ہے کہ جب انسان کو گیان حاصل ہو ورنہ بلا سوچے سمجھے کہہ دینے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔ ہر ایک مذہب میں کھلی کھلی بات اور گیان کی بات بھی ہوتی ہے جب تک انسان نفس کو صاف کر کے بات نہ کرے تو ٹھیک پتا نہیں لگتا۔ آج کل ہار جیت کو مد نظر رکھ کر لوگ بات کرتے ہیں ۔ اس سے فساد کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بار بار جہاد، طلاق، کثرت ازدواج کو پیش کیا جاتا ہے حالانکہ ان کے بزرگ سب یہ باتیں کرتے آئے ہیں۔ یہاں کے آریہ ہمیشہ میرے پاس آتے ہیں اور سوال و جواب بھی ہوتا ہے لیکن آپس میں ناراضگی کبھی نہیں ہوتی بعض بات اپنے محل پر چسپاں کہی جاتی ہے لوگ اسے غلط فہمی سے گالی خیال کر لیتے ان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ گالی اور برمحل بات میں فرق کر سکیں۔ بات یہ ہے کہ جب انسان پرانے عقیدے پر جما ہوا ہوتا ہے تو اس کے عقیدے کو جب دوسرا بیان کرتا ہے تو اسے گالی خیال کرتا ہے۔ ہیں اس موقع پر ایک ہندو نے کہا کہ آپ نے بعض جگہ گالیاں دی ہوئی ہیں۔ فرمایا کہ کوئی ایسی بات پیش کرو جو اپنے محل پر چسپاں نہیں ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ زبانی تقریریں اچھی نہیں ہیں۔ اور تحریر پیش کرتا ہوں کہ ہر ایک پڑھ کر اپنی اپنی جگہ پر رائے قائم کرلے اور جو اس کا جی چاہے کہے۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت اقدس نے اس ہند و کو تحفہ آریہ یعنی نسیم دعوت نئی تصنیف دی کہ تم L اسے دیکھو اور بتلاؤ کون سی بات ہے جو اپنے محل پر چسپاں نہیں ہے۔ اے ( قبل از ظهر ) حضرت اقدس کی زیارت کے لیے کاشی رام ویدلا ہور سے اور بعض اور لوگ تشریف لائے۔ حضرت اقدس نے مخاطب کر کے ان کو فرمایا۔ اختلاف مذاہب کا جو خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت عملی سے رکھا اختلاف مذہب کی حکمت ہے یہ بھی ایک عمدہ چیز ہے۔ اس سے انسانوں کی عقل بڑھتی البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۷