ملفوظات (جلد 4) — Page 253
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۳ جلد چهارم کلمتہ اللہ ہیں۔ ان کی ماں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پاکباز اور عفیفہ ہے ورنہ یوں تو کلمۃ اللہ ہر شخص ہے ان کی خصوصیت کیا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے انہی اعتراضوں سے ہی بری کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطان کے مس سے پاک ہیں ورنہ کیا دوسرے انبیاء شیطان کے ہاتھ سے مس شدہ ہیں ؟ جو نعوذ باللہ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ ان پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شیطان کو کسی معمولی انسان پر بھی تسلط نہیں ہوتا تو انبیاء پر کس طرح ہو سکتا ہے؟ اصل وجہ صرف یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتراض کئے گئے تھے۔ اسی واسطے ان کی بریت کا اظہار فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَفَرَ سُلَيمن (البقرة: ۱۰۳) کوئی کہے کہ کیا انبیاء بھی کافر ہوا کرتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ۔ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بت پرست ہو گئے تھے ایک عورت کے لیے۔ اس اعتراض کا جواب دیا یہی حال ہے حضرت عیسی کے متعلق ۔ ہے اس دن کی سیر کے دوران ایک اور ذکر بھی ہوا جو البدر میں یوں درج ہے۔ چونکہ آج کے دن بھی آریہ سماج کا جلسہ تھا اور کثرت سے لوگ اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے کہ حضرت میرزا صاحب کی زیارت ہو گی ۔ مگر جب ان کو معلوم ہوا کہ مباحثہ کی خبر غلط شائع کی گئی ہے تو اب وہ لوگ حضرت کی زیارت کے لیے بعض تو مسجد میں آتے رہے اور بعض سیر میں آکر ملے ان میں سے بعض نے پھر درخواست کی کہ آپ جلسہ میں آ کر کچھ گفتگو کریں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ گالی اور برمحل بات میں فرق نہی باتوں کو کم رنگ میں بیان کرنا چاہیے اور یہ جب مذہبی علمی ل البدر سے۔ ” ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت مسیح کو کلمہ کہا گیا ہے۔ کہا گیا ہے۔ فرمایا۔ ان کو کلمہ اس لیے کہا گیا تھا کہ یہودان کو ناجائز ولادت قرار دیتے تھے ورنہ کیا دوسرے انبیاء کلمتہ اللہ نہ تھے؟ اسی طرح مریم علیہا السلام کو صدیقہ کہا گیا۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اور عورتیں صدیقہ نہ تھیں ۔ یہ بھی اسی لیے یہ کہا کہ یہودی ان پر تہمت لگاتے تھے تو قرآن نے اس تہمت کو دور کیا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۷) الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱، ۱۲