ملفوظات (جلد 4) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد چهارم وجود تباہ ہونے والے دلوں کو بے قرار اور بے چین کر کے ایک رنگ میں ایک طرح سے خبر دیتا ہے اور ان کے دل بے قرار ہوتے ہیں ۔ کیونکہ دل اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ یہ شخص ہمارا کاروبار تباہ کرنے آیا ہے۔ اس واسطے نہایت اضطراب کی وجہ سے اس کے ہلاک کرنے کو اپنے تمام ہتھیاروں سے دوڑتے ہیں مگر اس کا خدا خود محافظ ہوتا ہے۔ خدا خود اس کے واسطے طاعون کی طرح واعظ بھیجتا اور اس کے دشمنوں کے واعظوں پر اسے غلبہ دیتا ہے۔ وہ خدا کے واعظ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اب دیکھئے کہ اتنے لوگ جو ہر جمعہ کو جن کی نوبت اکثر پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے ان کو کون بیعت کے لیے لاتا ہے؟ یہی طاعون کا ڈنڈا ہے جو ان کو ڈرا کر ہماری طرف لے آتا ہے ورنہ کب جاگنے والے تھے اسی فرشتہ نے ان کو جگایا ہے۔' ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء ( در بار شام ) دربار شام میں آریہ لوگوں میں سے چند لوگ حضرت اقدس کی زیارت کے واسطے آئے۔ حضرت نے پوچھا آپ بھی اس جلسہ کی تقریب پر آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ حضور ہم لوگ تو اصل میں یہ بات سن کر آئے ہیں کہ آپ کا بھی لیکچر ہوگا ورنہ ہماری اس جگہ آنے کی چنداں خواہش نہ تھی ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر قوم میں کچھ شریف مذہبی مباحثات کے آداب لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد کسی بے جا حقارت یا کسی کو بے جا گالی گلوچ دینا یا کسی قوم کے بزرگوں کو برا بھلا کہنا ان کا مقصد نہیں ہوتا۔ مگر ہم تو جو کام کرتے ہیں وہ خدا کے حکم اور اس کی اجازت اور اس کے اشارہ سے کرتے ہیں ۔ اس نے ہمیں اس قسم کے زبانی مباحثات سے روک دیا ہوا ہے چنانچہ ہم کئی سال ہوئے کہ کتاب انجام آتھم میں اپنا یہ معاہدہ شائع بھی کر چکے ہیں اور ہم نے خدا سے عہد کیا ہے کہ زبانی مباحثات کی مجالس میں نہ جاویں گے۔ لے الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰،۹