ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 245

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۵ جلد چهارم اور سچا تقویٰ ہے۔ ان کی گالیوں پر ہمیں کیا افسوس ہو۔ انہوں نے تو نہ خدا کو سمجھا اور نہ حق العباد کو ۔ ان کو خبر ہی نہیں کہ زبان کسی چیز سے رکتی ہے ۔ تمام قوت اور توفیق خدا ہی کو ہے اور اس کی عنایت اور نصرت سے ہی انسان کچھ لکھ پڑھ سکتا ہے۔ شاید اس کتاب کے خاتمہ کے لکھے جانے سے اس قوم کی قوت و ہمت اور دلائل کا خاتمہ ہو جاوے۔ میں نے کل سوچا کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ جب کوئی صادق صادق کی مخالفت کار از خدا کی طرف سے آتا ہے تو اس کو لوگ کتوں کی طرح کا ۔ کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ اس کی جان ، اس کا مال ، اس کی عزت و آبرو کے درپے ہو جاتے ہیں۔ مقدمات میں ، اس کو کھینچتے ہیں۔ گورنمنٹ کو اس سے بدظن کرتے ہیں غرض ہر طرح سے جس طرح ان سے بن پڑتا ہے اور تکلیف پہنچا سکتے ہیں اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ ہر پہلو سے اس کے استیصال کرنے پر آمادہ اور ہر ایک کمان سے اس پر تیر مارنے کو کمر بستہ ہوتے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ ذبح کر دیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے قیمہ کر دیں ۔ ادھر تو یہ جوش اٹھتا ہے مگر دوسری طرف اس کے پاس ہزار دو ہزار لوگ آتے ہیں ۔ شرک و بدعت میں مبتلا ہوتے اور حق اللہ انسان کو دیا جاتا ہے مگر ان میں مولویوں کو اس امر کی پروا نہیں ہوتی ۔ ہزاروں کنجر اور لنگوٹی پوش فقیر بنتے اور خلق اللہ کو گمراہ کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو قتل اور کفر کا فتوی کوئی نہیں دیتا ان کی ہر حرکت بدعت اور شرک سے پر ہوتی ہے۔ ان کا کوئی کام ایسا نہیں ہوتا جو سراسر اسلام کے خلاف نہ ہو ۔ مگر ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔ ان کے لیے کسی دل میں جوش نہیں اٹھتا غرض اس میں میں سوچتا تھا کہ کیا حکمت ہے تو میری سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ صادق کا ایک معجزہ ظاہر کرے کہ باوجود اس قسم کی ممانعت کے اور دشمن کے تیر و تبر کے چلانے کے صادق بچایا جاتا اور اس کی روز افزوں ترقی کی جاتی ہے خدا کا ہاتھ اسے بچاتا اور اس کو شاداب و سر سبز کرتا ہے۔ خدا کی غیرت نہیں چاہتی کہ کاذب کو بھی اس معجزہ میں شریک کرے۔ اسی واسطے اس کی طرف سے دنیا کے دلوں کو بے پروا کر دیتا ہے۔ گویا اس جھوٹے کی کسی کو یہ پروانہیں ہوتی ۔ اس کا وجود دلوں کو تحریک نہیں دے سکتا۔ مگر برخلاف اس کے صادق کا