ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 247

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۷ جلد چهارم آپ جانتے ہیں کہ ایسے مجمعوں میں مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں ۔ کوئی تو محض جاہل اور دھڑے بندی کے خیال پر آتے ہیں کوئی اس واسطے کہ تاکسی کے بزرگوں کو گالی گلوچ دے کر دل کی ہوس پوری کر لیں اور بعض سخت تیز طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں۔ سو جہاں اس قسم کا مجمع ہوا ایسی جگہ جا کر مذہبی مباحثات کرنا بڑا نازک معاملہ ہے۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب دو شخص مقابل میں کھڑے ہوتے ہیں جب تک وہ یہ ثابت کر کے نہ دکھا دیں کہ دوسرا مذہب بالکل غلطی پر ہے اور اس میں صداقت اور روحانیت کا حصہ نہیں وہ مردہ ہے اور خدا سے اسے تعلق نہیں ہے تب تک اس کو اپنے مذہب کی خوبصورتی دکھانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسرے کے معائب کا ذکر کرنا ہی پڑے گا ۔ جو غلطیاں ہیں اس میں اگر ان کا ذکر نہ کیا جاوے تو پھر اظہا ر حق ہی نہیں ہوتا تو ایسی باتوں سے بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ نہیں برداشت کر سکتے ۔ طیش میں آکر جنگ کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لہذا ایسے موقع پر جانا مصلحت کے خلاف ہے اور مذہبی تحقیقات کے واسطے ضروری ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل اور انصاف پسند طبیعت لے کر ایک مجلس میں جمع ہوں ۔ ایسا ہو کہ ان میں کسی قسم کے جنگ وجدال کے خیالات جوش زن نہ ہوں تو بہتر ہو۔ پھر ایسی حالت میں ایک طرف سے ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور جہاں تک وہ بول سکتا ہے بولے پھر دوسری طرف سے جانب مقابل بھی اسی طرح نرمی اور تہذیب سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اسی طرح بار بار ہوتا رہے مگر افسوس کہ ابھی تک ہمارے ملک میں اس قسم کے متحمل لوگ اور صبر اور نرم دلی سے تحقیق کرنے والے نہیں ہیں ابھی ایسا وقت نہیں آیا ہاں امید ہے کہ خدا جلدی ایسا وقت لے آوے گا ہم نے تو ایسا ارادہ بھی کیا ہے کہ یہاں ایک ایسا مکان تیار کرایا جاوے جس میں ہر مذہب کے لوگ آزادی سے اپنی اپنی تقریریں کر سکیں۔ در حقیقت اگر کسی امر کو ٹھنڈے دل اور انصاف کی نظر اور بردباری سے نہ سنا جاوے تو اس کی سچی حقیقت اور تہ تک پہنچنے کے واسطے ہزاروں مشکلات ہوتے ہیں۔ دیکھئے ایک معمولی چھوٹا سا مقدمہ ہوتا ہے تو اس میں حج کس طرح طرفین کے دلائل ، ان کے عذر وغیرہ کسی ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور پھر کس طرح سوچ بچار کر پوری تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا