ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 237

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۷ جلد چهارم حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گزارہ نہیں ۔ زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔ اگر اسی کی حفاظت شاملِ حال نہ ہو تو کیا ہوسکتا ہے۔ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالی ہدایت پر کار بند رکھے ۔ کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرۃ: ۲۷) پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔ نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے۔ اصل میں نیک انسان تو اپنا پاؤں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تا کسی کیڑے کو بھی اس اس ۔ سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے، پاؤں سے، آنکھ وغیرہ اعضا سے کسی کو کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچاؤ اور دعائیں مانگتے رہو ۔ مرزا خدا بخش صاحب مالیر کوٹلہ سے تشریف لائے تھے۔ ان سے وہاں کے تعدد ازدواج جلسہ کے حالات دریافت فرماتے رہے۔ انہوں نے سنایا کہ ایک شخص نے یوں اعتراض کیا کہ اسلام میں جو چار بیویاں رکھنے کا حکم ہے یہ بہت خراب ہے اور ساری بداخلاقیوں کا سرچشمہ ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ چار بیویاں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ چار ہی کو گلے کا ڈھول بنالے۔ قرآن کا منشا تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لے کر چار تک کی اجازت دے دی ہے۔ ایسے لوگ جو ایک اعتراض کو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں اور پھر وہ خود اسلام کا دعوی بھی کرتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کا ایمان کیسے قائم رہ جاتا ہے۔ وہ تو اسلام کے معترض ہیں ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانون بنانے کے وقت کن کن باتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔ بھلا اگر کسی شخص کی ایک بیوی ہے اسے جذام ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اندھی ہو گئی ہے یا اس قابل ہی نہیں کہ اولاد اس سے حاصل ہو سکے وغیرہ وغیرہ عوارض