ملفوظات (جلد 4) — Page 236
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۶ جلد چهارم میں ایک الہام ہوا جس کا صرف ایک حصہ یا د رہا۔ چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا تھا جیسے بجلی کوندتی ہے اس لیے باقی حصہ محفوظ نہ رہا وہ یہ ہے وَ يُبقيك اس کا ترجمہ بھی اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی بتایا اور لو وہ یہ ہے تا بدیر ترا خواهد داشت ۔ کے ۲۲ فروری ۱۹۰۳ء ایک مخلص کی بدخوابی کے تذکرہ پر فرمایا۔ کچھ حصہ رات کو آرام ضرور کرنا چاہیے دیکھو! قرآن شریف سورہ مزمل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قومی کو اپنا حرج شده مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مل جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ اُصَلَّی وَ أَنُومُ ۔ اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایسا وقت ہوگا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے۔ سیالکوٹ کے ضلع کا ایک نمبردار تھا۔ اس نے بیعت کرنے کے بعد پوچھا کہ حضور بہترین وظیفہ اپنی زبان مبارک سے کوئی وظیفہ بتادیں۔ فرمایا کہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذات اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ صدق دل سے روزے رکھو۔ صدقہ و خیرات کرو۔ درود اور استغفار پڑھا کرو۔ اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آؤ۔ بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو اور ان پر بھی ظلم نہ چاہیے۔ خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ نا پاک اور نامراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گزار ہتا وہ محروم کیا جاتا ہے۔ دیکھو! اگر خدا ہی ل الحکم جلدے نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۶