ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 238

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۸ جلد چهارم میں مبتلا ہو جاوے تو اس حالت میں اب اس خاوند کو کیا کرنا چاہیے کیا اسی بیوی پر قناعت کرے؟ ایسی مشکلات کے وقت وہ کیا تدبیر پیش کرتے ہیں۔ یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بد معاشی زناوغیرہ میں مبتلا ہو گئی تو کیا اب اس خاوند کی غیرت تقاضا کرے گی کہ اسی کو اپنی پر عصمت بیوی کا خطاب دے رکھے؟ خدا جانے یہ اسلام پر اعتراض کرتے وقت اندھے کیوں ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسانی ضروریات کو ہی پورا نہیں کرسکتا۔ اب ان مذکورہ حالتوں میں عیسویت کیا تدبیر بتاتی ہے؟ قرآن شریف کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ انسانی کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کا پہلے سے ہی اس نے قانون نہ بنا دیا ہو۔ اب تو انگلستان میں بھی ایسی مشکلات کی وجہ سے کثرت ازدواج اور طلاق شروع ہوتا جاتا ہے۔ ابھی ایک لارڈ کی بابت لکھا تھا کہ اس نے دوسری بیوی کر لی آخر ا سے سزا بھی ہوئی مگر وہ امریکہ میں جا رہا۔ غور سے دیکھو کہ انسان کے واسطے ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیادہ بیویاں کرے جب ایسی ضرورتیں ہوں اور ان کا علاج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پورا کرنے کو قرآن شریف سی اتم اکمل کتاب بھیجی ہے۔ اسی اثنا میں شراب کا ذکر شروع ہو گیا۔ کسی نے کہا کہ اب تو حضور شراب کے شراب کی مضرت بسکٹ بھی ایجاد ہوئے ہیں۔ ۔ فرمایا۔ شراب تو انسانی شرم، حیا، عفت ، عصمت کا جانی دشمن ہے۔ انسانی شرافت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے ، بلے ، گدھے ہوتے ہیں۔ اس کو پی کر بالکل انہی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں ناکردہ گناہ بھی ان میں شامل ہو جایا کریں گے۔ پہلے تو بعض کو شرم و حیا ہی روک دیتی تھی ۔ اب بسکٹ لیے اور جیب میں ڈال لیے۔ بات یہ ہے کہ دجال نے اپنی کوششوں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو فسق و فجور سے بھر دے مگر آگے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے میںتو کوفسق و سے مگر ہے کرے۔ اسلام کی کیسی عظمت معلوم ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام پر کوئی اعتراض کیا۔ اس سے شراب کی بد بو آئی۔ اس کو حد مارنے کا حکم دیا گیا کہ شراب پی کر اسلام پر