ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 234

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۴ جلد چهارم غضب ایسا نہ ہو کہ باروت کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ بعض لوگ تو غصہ سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں ۔ اگر ہمیں کوئی گالی دیتا ہے تو بھی صبر کرو۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیرو مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کے متعلق ہتک آمیز کلمے کہے جاویں تو کیسا جوش ہوتا ہے مگر تم صبر کرو اور حلم سے کلام کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کر دے جس مسلوب الغضب بن جاؤ سے سارا سلسلہ بدنام ہو یا یا کوئی مقدمہ بنے بنے جس سے سب کو تشویش ہو۔ سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔ یہ انبیاء کا ورثہ ہے۔ ہم اس سے کیوں کر محروم رہ سکتے تھے ایسے بن جاؤ کہ گویا مسلوب الغضب ہو۔ تم کو گو یا غضب کے قومی ہی نہیں دیئے گئے ۔ دیکھو! گر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تو نور نہیں آئے گا۔ نور اور ظلمت جمع نہیں ہو سکتے ۔ جب نور آ جائے گا تو ظلمت نہیں رہے گی ۔ تم اپنے سارے ہی قومی کو پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگاؤ اور جو جو کمی کسی قوت میں ہوا سے اس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کر کے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادات کو نکال پھینکو اور سارے اعضا کی اصلاح کر لو یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملا دو۔ تو بہ کرتے رہو۔ استغفار کرو ۔ دعا سے ہر وقت کام لو۔ ولی کیا ہوتے ہیں یہی صفات تو اولیاء کے ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھ، ہاتھ، پاؤں غرض کوئی ولی اللہ عضو ہو ۔ منشاء الہی کے خلاف حرکت نہی حرکت نہیں کرتے ۔ خدا کرتے۔ خدا کی عظمت کا بوجھ ان پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی زیارت کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتے پس تم بھی کوشش کرو۔ خدا بخیل نہیں۔ ( در بار شام ) ع ہر کہ عارف تر است تر سال تر ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعا کی جاوے قرآن شریف کی ایک برکت کہ میری زبان قرآن شریف اچھی طرح ادا کرنے لگے۔ قرآن شریف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں ۔ میری زبان کھل جاوے۔ فرمایا کہ تم صبر سے قرآن شریف پڑھتے جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو کھول دے گا۔