ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 233

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۳ جلد چهارم اس کا آقا اس کو حکم کرے۔ جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے تو ہم کیوں سختی کریں ۔ ثواب تو فرماں برداری میں ہوتا ہے۔ اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہوا و ہوس کی تابعداری سے جوش دکھاویں۔ یا درکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب مغلوب الغضب غلبہ ونصرت سے محروم ہوتا ہے میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹھ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کیے جاتے ہیں ۔ غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے ۔ جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے ۔ غضب نصف جنون ہے اور جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ گل نا کر دنی افعال سے دور رہا کریں۔ وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھیل رہ جایا کرتی ہے۔ سو دیکھو! اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا نے ہمیں دیتے ہیں۔ جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک نصیحت کا پیرا یہ پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنا دیتی ہے پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( النحل: ۱۲۶) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يشاء (البقرة: ۲۷) مگر یا درکھو کہ جیسے یہ باتیں حرام ہیں ویسے ہی نفاق بھی حرام ہے۔ اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ کہیں پیرا یہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو۔ موقع کے موافق ایسی کارروائی کرو جس سے اصلاح ہوتی ہو۔ تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا