ملفوظات (جلد 4) — Page 232
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۲ جلد چهارم ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات اور رحمت کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔ بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ نا کام مرے گا وہ جو اللہ اور رسول - فرمودہ کا تابعدار نہیں بلکہ اور اور راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے۔ دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں ان کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت ہر قسم کے گناہوں سے بچھ کے موافق نیک انسان ان سے بجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سے بچو کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے۔ گناہ ایک آگ ہے جو روحانی قومی کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو ۔ آنکھ کے گناہوں سے ، ہاتھ کے گناہوں سے ، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پر ہیز کرتے رہو۔ نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔ نماز کی یہ نماز گناہوں سے بچنے کا آلہ ہے صفت ہے کہ یہ نسان کو گناہ اور بدکاری سے بنا دیتی ہے سو تم ویسی نماز کی تلاش کرو اور اپنی نماز کو ایسی بنانے کی کوشش کرو۔ نماز نعمتوں کی جان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں سو اس کو سنوار کر ادا کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔ یہ بھی یاد رکھو کہ ہمارا طریق نرمی ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمارا طریق نرمی ہے اتنے تھا ریق نرمی ہے اپنے مخالفوں کے مقابل پر نرمی سے کام لیا کریں تمہاری آواز تمہارے مقابل کے آواز سے بلند نہ ہو۔ اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بناؤ کہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صدمہ نہ ہو دے۔ ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے بلکہ ہم تو مقتولوں اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے اور ان میں زندگی کی روح پھونکنے کو آئے ہیں ۔ تلوار سے ہمارا کاروبار نہیں اور نہ یہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے ہمارا مقصد نرمی سے ہے اور نرمی سے اپنے مقاصد کی تبلیغ ہے۔ غلام کو وہی کرنا چاہیے جو