ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 221

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۱ جلد چهارم چاہی ہے انکار نہیں کیا اور پھر اقتراح بھی نہیں کیا بلکہ احیائے موتی کی کیفیت پوچھی ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ اس مردہ کو زندہ کر کے دکھا یا یوں کر اور پھر اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ بھی عجیب اور لطیف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو چار جانور لے ان کو اپنے ساتھ ہلالے یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ ذبح کر لے کیونکہ اس میں ذبح کرنے کا لفظ نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہلائے جیسے لوگ بٹیر یا تیتر یا بلبل کو پالتے ہیں اور اپنے ساتھ ہلا لیتے ہیں پھر وہ اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں اور اُس کے بلانے پر آجاتے ہیں ۔ اسی طرح پر حضرت ابراہیم کو احیاء امانت سے انکار نہ تھا بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مردے خدا کی آواز کس طرح سنتے ہیں اس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ہر چیز طبعاً اور فطرتا اللہ تعالیٰ کی مطیع اور تابع فرمان ہے۔ نووارد -کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت کو دیئے گئے کے لیے قرآن شریف میں ایسا فرمایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل فرمایا۔ حضرت اقدس ۔ میں قرآن شریف سے یہ استنباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ اور فضائل مختلفہ کے جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے چنانچہ فرمایا فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ( البينة : (۴) اور مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب (الانعام : ۳۹) ایسا ہی ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ تمام نبیوں کا اقتدا کر ۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امر دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک امر تو تشریعی ہوتا ہے جیسے یہ کہا کہ نماز قائم کرو یا زکوۃ دو وغیرہ۔ اور بعض امر بطور خلق ہوتے ہیں جیسے يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبیاء:۷۰) یہ امر جو ہے کہ تو سب کی اقتدا کر یہ امر بھی خلقی اور کوئی ہے یعنی تیری فطرت کو حکم دیا کہ وہ کمالات جو جميع انبیاء علیہم السلام میں متفرق طور پر موجود تھے اس میں یکجائی طور پر موجود ہوں اور گو یا اس کے ساتھ ہی وہ کمالات اور خوبیاں آپ کی ذات میں جمع ہو گئیں ۔