ملفوظات (جلد 4) — Page 222
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ جلد چهارم چنانچہ ان خوبیوں اور کمالات کے جمع ہونے ہی کا نتیجہ آیت خاتم النبیین کا حقیقی حقیقی مفہوم تھاکہ آپ جو ختم ہوا اور فرمایا ما پ پر نبوت ختم ہوگئی اور یہ فرمایا کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ خَاتَمَ البِينَ (الاحزاب: ۴۱) ختم نبوت کے یہی معنے ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمالات تجھ پر ختم ہو گئے اور آئندہ کے لیے کمالات نبوت کا باب بند ہو گیا کہ کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔ نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنے ہیں خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا ۔ جولوگ براہ راست خدا سے مکالمہ کرتے اور اس سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اصطلاح ہو گئی تھی مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بند کر دیا ہے اور مہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ سے مکالمہ جب تک آپ کی اُمت : پ کی اُمت میں داخل نہ ہو اور آپ کے فیضان سے مستفیض نہ ہو وہ خدا سے ، کا شرف نہیں پا سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس اُمت میں داخل ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے کے بغیر کوئی شرف مکالمہ الہی حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔ آیت خاتم النبیین حضرت عیسی کے دوبارہ نہ آنے پر زبردست دلیل ہے یہی ایک آیت زبردست دلیل ہے اس امر پر جو ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسی دوبارہ نہیں آویں گے بلکہ آنے والا اس اُمت میں سے ہوگا کیونکہ وہ نبی ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبوت کا فیضان حاصل کر سکتا ہی نہیں جب تک وہ آنحضرت سے استفاضہ نہ کرے جو صاف لفظوں میں یہ ہے کہ آپ کی اُمت میں داخل نہ ہو ۔ اب خاتم النبیین والی آیت تو صریح روکتی ہے پھر وہ کس طرح آسکتے ہیں ۔ یا ان کو نبوت سے معزول کرو اور ان کی یہ ہتک اور بے عزتی روا رکھو اور یا یہ کہ پھر ماننا پڑے گا کہ آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا۔ نبی کی اصطلاح مستقل نبی پر