ملفوظات (جلد 4) — Page 220
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد چهارم اس شخص کو پورے طور پر تبلیغ ہو جاوے اس لیے اس کی ہر بات اور ہر ایک اعتراض کو نہایت توجہ سے سن کر اس کا مبسوط جواب فرماتے آج جب آپ سیر کو تشریف لے چلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ سے سلسلہ تقریر شروع ہوا رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى (البقرة : ٢٦١) رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الموتی کی لطیف تقریر فرمایا کہ حضرت امام علیہ السلام کے اس قصہ پر نظر کرنے سے معلوم سے ایمان ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت آپ سے بھی بڑھی ہوئی تھی یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ ارشاد ہوا کو کم تومن کیا تو اس پر ایمان نہیں لاتا ؟ اگر چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب یہی دیا کہ بلی ہاں میں ایمان لاتا ہوں مگر اطمینان قلب چاہتا ہوں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا سوال نہ کیا اور نہ ایسا جواب دینے کی ضرورت پڑی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے ہی کے انتہائی مرتبہ اطمینان اور عرفان پر پہنچے ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ادینی رَبِّي فَأَحْسَنَ ادبی تو یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے۔ ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی ایک خوبی اس سے پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا او لَمْ تُؤْمِن تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ یہ کہا کہ ایمان تو رکھتا ہوں مگر اطمینان چاہتا ہوں ۔ پس جب ایک شخص ایک شرطی اقتراح پیش کرے اور پھر یہ کہے کہ میں اطمینانِ قلب چاہتا ہوں تو وہ اس سے استدلال نہیں کر سکتا کیونکہ شرطی اقتراح پیش کرنے والا تو ادنی درجہ بھی ایمان کا نہیں رکھتا بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب کے مقام پر ہے اور تسلیم کرنے کو مشروط به اقتراح کرتا ہے۔ پھر وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ میں ابراہیم کی طرح اطمینان قلب چاہتا ہوں ۔ ابراہیم نے تو ترقی ایمان وو لے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ فقرہ یوں ہونا چاہیے بلکہ وہ تو ایمان لا اور تک ر تکذیب کے درمیانی مقام پر ہے۔“ لفظ دو ،، درمیانی چھوٹا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ (مرتب)