ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 209

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۹ جلد چهارم گا مگر اب دیکھو کہ اس کی ہڈیوں کا بھی کہیں نشان پایا جاتا ہے۔ مگر میں خدا کے فضل سے اسی طرح زندہ ہوں ۔ یہ امور ہیں اگر حق پسند تانی اور توقف سے ان میں غور کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر نرے بحث او کرنے والے جلد باز کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ کے منجملہ میرے نشانوں کے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اس وقت میں نے خبر دی تھی جب کہ ابھی کوئی نام و نشان بھی اس کا پایا نہ جاتا تھا اور یہ بھی الہام ہوا تھا کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا اب دیکھ لو کہ یہ و با خطر ناک طور پر پھیلی ہوئی ہے اور گاؤں کے گاؤں اس طرف رجوع کر رہے ہیں اور توبہ کرتے جاتے ہیں کیا یہ باتیں انسانی طاقت کے اندر ہیں؟ یہی امور ہیں جو خارق عادت کہلاتے ہیں۔ نو وارد ۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر صدی پر مجدّد ہونا چاہیے۔ ہے تجدید دین کی ضرورت حضرت اقدس ۔ ہاں یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے ۔ بعض لوگ اس بات کو سن کر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے تو پھر تیرہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتاؤ۔ میں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ ان مجدّدوں کے نام بتانا میرا کام نہیں یہ سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو جنہوں نے فرمایا ہے کہ ہر صدی پر مجدد ل البدر سے۔ یہ امور جو ایک صالح اور شریف کے واسطے قابل غور ہیں بشرطیکہ وہ اپنے نفس کا علاج کرانے والا ہو۔ اس کو یہ موقع نہیں ہے کہ بحث کرے۔ اسے خیال کرنا چاہیے کہ خدا کا ایک قہری نشان موت ( طاعون ) سر پر کا ہے کسی کو کیا علم کہ اس نے کہاں تک سیر کرنا ہے ۔“ البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۵۳) البدر میں نو وارد کے اس سوال سے پہلے ایک اور سوال اور اس کا جواب منجانب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں درج ہے۔ محمد یوسف صاحب ۔ یہ امور تو سب ٹھیک ہیں اور آپ کوئی امر خلاف واقعہ قرآن نہیں کہتے ہیں لیکن میں صرف اپنی عقل کے موافق رفع شکوک چاہتا ہوں اور جہالت سے متنفر ہوں ۔ حضرت اقدس ۔ دیکھئے ایک طریق وکلاء کا ہوتا ہے کہ اُن کو حق ناحق سے غرض نہیں ہوتی جس فریق کا مقدمہ لے لیا ہے اب اسی کی بات کرتے ہیں اور ایک خیال انسان کے اندر ہوتا ہے جس سے وہ خوشبو اور بد بو کا پتالے لیتا ہے۔ وہ ایک قسم کا نور ہوتا ہے جس سے انسان معصیت سے بچا رہتا ہے۔ اب ان عیسائی آریہ وغیرہ پر دیکھا گیا ہے کہ سب اپنے مذہب کی بیچ کرتے ہیں ورنہ ان کے پاس کوئی دلائل حقانیت کے نہیں ہیں ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ر مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۳)