ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 210

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۰ جلد چهارم آتا ہے اس حدیث کو تمام اکابر نے تسلیم کر لیا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس کو مانتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اور حدیث کی کتابیں جو موجود ہیں ان میں یہ حدیث پائی جاتی ہے کسی نے کبھی اس کو پھینک نہ دیا اور نہ کہا کہ یہ حدیث نکال دینی چاہیے جب کہ یہ بات ہے تو پھر مجھ سے فہرست کیوں مانگی جاتی ہے۔ میرا یہ مذہب ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو منسوب ہوا گر وہ قرآن شریف کے برخلاف نہ ہو تو میں اس کو مانتا ہوں ۔ خود ہی ان لوگوں سے پوچھو ۔خودہی کہ کیا یہ حدیث جھوٹی ہے؟ تو اسے پہلے نکالو اور اگر شکی ہے تو پھر تقویٰ کا تقاضا تو یہ ہے کہ کم از کم اس حدیث کی رو سے مجھے بھی شکی ہی مان لو عجیب بات ہے حدیث کو کی کہو اور مجھے کذاب! یہ تو تقویٰ کا طریق نہیں ۔ اگر بفرض محال جھوٹی ہے تو پھر جان بوجھ کر جھوٹ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا لعنتی کا کام ہے۔ سب سے پہلا کام تو علماء کا یہ ہونا چاہیے کہ اس کو نکال ڈالیں مگر میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ حدیث جھوٹی نہیں ، صحیح ہے۔ یہ عام طور پر مشہور ہے کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے۔ نواب صدیق حسن خان وغیرہ نے ۱۳ مجدد گن کر بھی دکھائے ہیں مگر میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس حدیث کی صحت کا یہ معیار نہیں بلکہ قرآن اس کی صحت کا گواہ ہے۔ یہ حدیث إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ (الحجر: ۱۰) کی شرح ہے صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سو سال بعد کوئی نہ رہے گا جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے اس لیے صدی کے بعد ایک نئی ذُریت پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے اناج کے کھیت اب دیکھتے ہیں ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سرے سے پیدا ہو جائیں گے ۔ اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پہلے اکا برسوسال کے اندرفوت ہو جاتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ ہر صدی پر نیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کا حکم رکھتی ہے۔ کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجدید کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طریق پرنئی ذریت کو تازہ