ملفوظات (جلد 4) — Page 207
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۷ جلد چهارم کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ طبابت کے رنگ میں یا صدقات وخیرات کے رنگ میں عہدہ دار ہو تب ولیم میور کی طرح اپنے رنگ میں ۔ غرض صد ہا شاخیں ہیں جو اسلام کے استیصال کے لیے انہوں نے اختیار کر رکھی ہیں۔ یہ دل سے چاہتے ہیں کہ ایک فرد بھی اسلام کا نام لینے والا باقی نہ رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والا کوئی نہ ہو۔ ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں ان کے جوش کو بیان کر سکیں۔ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے وہ جوش کسر صلیب کے لیے دیا ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی اور کو نہیں دیا گیا۔ پھر کیا یہ جوش بدوں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آنے کے پیدا ہو سکتا ہے؟ جس قدر تو ہین اللہ تعالیٰ کی اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہے کیا ضرور نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو غیور ہے آسمان سے مدد کرتا۔ غرض ایک طرف تو یہ صلیبی فتنہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ دوسری طرف صدی ختم ہو گئی ۔ تیسری طرف اسلام کا ہر پہلو سے ضعیف ہونا کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھو طبیعت کو بشاشت نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت میں ہم چاہتے ہیں کہ پھر خدا کا جلال ظاہر ہو۔ مجھے محض ہمدردی سے کلام کرنا پڑتا ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ غائبانہ میری کیسی ہنسی کی جاتی ہے اور کیا کیا افترا ہوتے ہیں۔ مگر جو جوش خدا نے مجھے ہمدردی مخلوق کا دیا ہوا ہے وہ مجھے ان باتوں کی کچھ بھی پروانہیں کرنے دیتا۔ میں تو خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں نہ لوگوں کو ۔ اس لیے میں ان کی گالیوں اور ٹھٹھوں کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرا مولا میرے ساتھ ہے۔ ایک وقت تھا کہ ان راہوں میں میں اکیلا پھرا کرتا تھا۔ اس وقت خدا نے مجھے بشارت دی کہ تو اکیلا نہ رہے گا بلکہ تیرے ساتھ فوج در فوج لوگ ہوں گے اور یہ بھی کہا کہ تو ان باتوں کو لکھ لے اور شائع کر دے کہ آج تیری یہ حالت ہے پھر نہ رہے گی۔ میں سب مقابلہ کرنے والوں کو پست کر کے ایک جماعت کو تیرے ساتھ کردوں گا۔ وہ کتاب موجود ہے مکہ معظمہ میں بھی اس کا ایک نسخہ بھیجا گیا تھا۔ بخارا میں بھی اور گورنمنٹ میں بھی ۔ اس میں جو پیشگوئیاں ۲۲ سال پیشتر چھپ کر شائع ہوئی ہیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں ۔ کون ہے جو ان کا انکار کرے۔ ہندو، مسلمان اور