ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 206

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۶ جلد چهارم ہوتے ہیں کہ وہ ان کو نہیں دیکھتا لیکن معرفت کی خورد بین ان گناہوں کو دکھا دیتی ہے۔ غرض اول گناہ کا علم عطا ہوتا ہے۔ پھر وہ خدا جس نے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يرة (الزلزال: ۸) فرمایا اس کو عرفان بخشتا ہے، تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے۔ اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر جماعت کے قیام کی غرض ظار کیا ہےکہ تقوی کم ہوگیا ہے۔ بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گرفتار ہیں اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپا کی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑ اسا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے ریا کاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ہے ہیں ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔ ائے ۔ اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشا ہے۔ ایک پہلو تو میری بعثت اور ماموریت کا یہ ہے۔ دوسرا پہلو کسر صلیب کا ہے۔ کسرِ صلیب کے لیے جس قدر جوش خدا نے مجھے دیا ہے اس کا کسی دوسرے کو علم نہیں ہو سکتا۔ صلیبی مذہب نے جو کچھ نقصان عورتوں مردوں اور جوانوں کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔ کے ہر پہلو سے اسلام کو ل البدر سے ۔ ایک وہ ہیں جو کہ بار یک گناہوں کے مرتکب ہیں ۔ اگر چہ ظاہری طور پر ایک انسان سمجھتا ہے کہ یہ بڑے دیندار ہیں لیکن مجب اور ریا اور باریک باریک معاصی میں مبتلا ہیں جو کہ عارفانہ خرد بین سے نظر آتے ہیں میں البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه (۵۲) دو البدر سے ۔ ” پادریوں کا فتنہ کس قدر ہے۔ کیا کچھ نقصان انہوں نے اسلام کو پہنچایا ہے۔ ۳۰ لاکھ سے زیادہ مسلمان ان کے ہاتھوں پر مرتد ہو چکے ہیں۔ ہر گاؤں میں ہر ہر محلہ میں انہوں نے ڈیرہ لگایا ہے۔ کروڑ با رسالہ جات اور کتابیں اسلام کی تردید میں ان کی طرف سے نکل کر مفت شائع ہوتی ہیں اور یہ اس قسم کے فتنے ہیں کہ اس کی نظیر شروع سے لے کر اب تک کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور ان کے حملے مختلف طور پر ہیں ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه (۵۲)