ملفوظات (جلد 4) — Page 205
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۵ جلد چهارم نہیں ہوتا کہ وہ طبیب کے ساتھ ایک مباحثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فرض یہی ہے کہ وہ اپنا مرض پیش کرے اور جو کچھ طبیب اس کو بتائے کے اس پر عمل کرے اس سے وہ فائدہ اُٹھائے گا۔ اگر اُس کے علاج پر جرح شروع کر دے تو فائدہ کس طرح ہوگا۔ انسان کا فرض کہ طلب صادق ہو انسان کی پیدائش کی علت غائی انسان کا فرض ہے کہ اس میں نیکی کی طلب صادق اور وہ اپنے مقصد زندگی کو سمجھے۔ قرآن شریف میں انسان کی زندگی کا مقصد یہ بتایا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷) یعنی جن اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ جب انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی ہے تو پھر چاہیے کہ خدا کو شناخت کریں۔ جب کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور عبادت کے واسطے اول معرفت کا ہونا ضروری ہے۔ جب سچی معرفت ہو جاوے تب وہ اس کی خلاف مرضی کو ترک کرتا اور سچا مسلمان ہو جاتا ہے۔ جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھو! جن چیزوں کے نقصان کو انسان یقینی سمجھتا ہے ان سے بچتا ہے مثلاً سم الفار ہے جانتا ہے کہ یہ زہر ہے اس لیے اس کو استعمال کرنے کے لیے جرات اور دلیری نہیں کرتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا کھانا موت کے منہ میں جانا ہے۔ ایسا ہی کسی زہریلے سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالتا یا طاعون والے گھر میں نہیں ٹھہرتا اگر چہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے منشا سے ہوتا ہے تاہم وہ ایسے مقامات میں جانے سے ڈرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ پھر گناہ سے کیوں نہیں ڈرتا ؟ ہے انسان کے اندر بہت سے گناہ ایسی قسم کے ہیں کہ وہ معرفت کی خورد بین کے سوا نظر ہی نہیں آتے ۔ ججوں ججوں معرفت بڑھتی ہے انسان گناہوں سے واقف ہوتا جاتا ہے بعض صغائر ایسی قسم کے لے البدر سے ۔ اگر علاج اچھا ہو تو اس کے پاس رہے ورنہ نہیں۔ کیا اگر ایک بچہ ابتدا ہی میں اُستاد سے الف پر بحث کرے کہ یہ الف کیوں ہے تو وہ کیا حاصل کرے گا یہ تو بد بختی کی نشانی ہے ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر۷ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۵۲ ) البدر سے۔ صرف یہی ہے کہ اس کو یقین نہیں ہے اور اس کو اس بات کا مطلق علم نہیں کہ گناہ مہلک ہے“ البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۵۲ )