ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 204

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۴ جلد چهارم خدا دانی اور معرفت بہت مشکل ہے۔ ہر چیز اپنے لوازمات کے ساتھ آتی ہے پس جہاں خدادانی آتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک خاص معرفت اور تبدیلی بھی آ جاتی ہے کبائر اور صغائر جو چیونٹیوں کی طرح ساتھ لگے ہوئے ہیں خدا کی معرفت کے ساتھ ہی وہ دور ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ اب میں وہ نہیں بلکہ اور ہوں۔ خدادانی میں جب ترقی کرنے لگتا ہے تو گناہ سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اطمینان کی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔ نفس تین قسم کے ہوتے ہیں ایک نفس اتارہ ایک لوامہ اور تیسرا مطمئقہ ۔ نفس کی تین قسمیں پہلی حالت میں تو صف بکھ ہوتا ہے کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے اتارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو معرفت کی ابتدائی حالت میں لوامہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ اور نیکی میں فرق کرنے لگتا ہے۔ گناہ سے نفرت کرتا ہے مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔ نیکی اور شیطان سے ایک قسم کا جنگ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی یہ غالب ہوتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ حالت آجاتی ہے کہ یہ مطمئنہ کے رنگ میں آجاتا ہے اور پھر گناہوں سے نری نفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ گناہ کی لڑائی میں یہ فتح پالیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلف صادر ہونے لگتی ہیں ۔ پس اس اطمینان کی حالت پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لوامہ کی حالت پیدا ہوا اور گناہ کی شناخت ہو ۔ گناہ کی شناخت حقیقت میں بہت بڑی بات ہے جو اُس کو شناخت نہیں کرتا اس کا علاج نبیوں کے پاس نہیں ہے۔ لے نیکی کا پہلا دروازہ اسی سے کھلتا ہے اول اپنی کورانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بڑی مجلس اور بری صحبت کو چھوڑ کر نیک مجلس کی قدر کرے اس کا یہی کام ہونا چاہیے کہ جہاں بتا یا جاوے کہ اس کے مرض کا علاج ہوگا وہ اس طبیب کے پاس رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتادے اس پر عمل کرنے کے کے لیے لیے ہمہ ہمین تن طیار طیارہو۔ ہو ۔ دیکھو! بیا بیمار جب کسی طبیب کے کے پاس جاتا ہے ہےتو تو یہ یہ ل البدر سے۔ ” یہ بات غلط ہے کہ کسی نبی یا ولی کے پاس جانے سے ایک دم میں ہی ایک پھونک سے سب کچھ ہوجاتا ہے اور وہ ہدایت پاتا ہے۔ ہدایت تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے یہ نہ نبی کا کام ہے نہ کسی اور کا“ البدر جلد ۲ نمبر۷ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه (۵۲)