ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 191

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۱ جلد چهارم الابصار (الانعام : ۱۰۴) ہم عرش اور استویٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حقیقت اور کنہ کو خدا کے حوالے کرتے ہیں ۔ جب دنیا وغیرہ نہ تھی عرش تب بھی تھا جیسے لکھا ہے كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود: ۸)۔ عرش ایک مجہول الگنہ امر اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے اس کے متعلق خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک مجہول الگنہ امر ہے اور خدا کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے وہ خَلْقُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ چاہتی تھی اس لیے اوّل وہ ہو کر استَوى عَلَی الْعَرْشِ ہوا ۔ اگر چہ توریت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے مگر وہ اچھے الفاظ میں نہیں ہے اور لکھا ہے کہ خدا ماندہ ہوکر تھک گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک انسان کسی کام میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے چہرہ اور خط و خال وغیرہ اور دیگر اعضا کا پورا پورا پتا نہیں لگتا مگر جب وہ فارغ ہو کر ایک تخت یا چار پائی پر آرام کی حالت میں ہو تو اس کے ہر ایک عضو کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح استعارہ کے طور پر خدا کی صفات کے ظہور کو ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ سے بیان کیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفات الہیہ کا اورز ظہور ہوا۔ صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہچانیں ۔ اسی طرح اس کے علم اور قادر مطلق ہونے کا پتا لگتا ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو خَلْقُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے بعد ہوئی۔ اسی طرح اس تجلی کے بعد ایک اور تجلی ہوگی جب کہ ہر شئے فنا ہو گی۔ پھر ایک اور تیسری تجلی ہوگی کہ احیائے اموات ہوگا۔ غرضیکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے اندر داخل ہونا روا نہیں ہے۔ صرف ایک تجلی سے اسے تعبیر کر سکتے ہیں۔ قرآن شریف سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عرش کو اپنی صفات میں داخل کیا ہے جیسے ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ ( البروج : ۱۶) گویا خدا تعالیٰ کے کمال علو کو دوسرے معنوں میں عرش سے بیان کیا ہے اور وہ کوئی مادی اور جسمانی شے نہیں ہے ورنہ زمین اور آسمان وغیرہ کی طرح عرش کی پیدائش کا ذکر بھی ہوتا ۔ اس لیے شبہ گذرتا ہے کہ ہے تو شے مگر غیر مخلوق اور یہاں سے دھوکا کھا کر آریوں کی طرف انسان چلا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا کے وجود کے علاوہ اور اشیاء کو غیر مخلوق مانتے ہیں