ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 192

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۲ جلد چهارم کے ویسے ہی یہ عرش کو ایک تھے غیر مخلوق جز از خدا ماننے لگتا ہے۔ یہ گمراہی ہے۔ اصل میں یہ کوئی ھے خدا وجود سے باہر نہیں ہے جنہوں نے اسے ایک تھے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولہ کی طرح فرشتوں نے اسے اُٹھایا ہوا ہے ۔ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرة: ۲۵۶) ۔ چار ملائک کا عرش کو اُٹھانا یہ بھی ایک استعارہ ہے۔ ربّ ۔ رحمن ۔ رحیم اور مالک یوم الدین یہ صفات الہی کے مظہر ہیں اور اصل میں ملائکہ ہیں اور یہی صفات جب زیادہ جوش سے کام میں ہوں گے تو ان کو آٹھ ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخص اسے بیان نہ کر سکے وہ یہ کہے کہ ایک مجہول اللہ حقیقت ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور حقیقت خدا کے سپرد کرے۔ اطاعت کا طریق یہی ہے کہ خدا کی باتیں خدا کے سپرد کرے اور ان پر ایمان رکھے۔ اور اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کی تجلیات ثلاثہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ بِهِ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ کی کنہ خدا ہی کو معلوم ہے بھی ایک تجلی تھی اور ماء کے معنے یہاں پانی بھی نہیں کر سکتے ۔ خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنے ہیں ۔ اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے۔ جنت کے نعماء پر بھی ایسا ہی ایمان ہے۔ وہاں یہ تو نہ ہو گا کہ بہت سی گائے بھینسیں ہوں گی اور دودھ دوہ کر حوض میں ڈالا جاوے گا۔ خدا فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں اور نہ زبان نے چکھیں نہ دل میں ان کے فہم کا مادہ ہے۔ حالانکہ ان کو دودھ اور شہد وغیرہ ہی لکھا ہے جو کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے اور ہم اسے پیتے ہیں ۔ اسی طرح کئی باتیں ہیں جو کہ ہم خود دیکھتے ہیں مگر نہ تو الفاظ ملتے ہیں کہ ان کو بیان کر سکیں نہ اُس کے بیان کرنے پر قادر ہیں ۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر ان کو مادی دنیا پر قیاس کریں تو صد ہا اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ مَنْ كَانَ فِي هُذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعمی (بنی اسراءیل : (۷۳) سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے او مگر ہم اسے جسمانیات پر نہیں حمل کر سکتے ۔ اے البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۷، ۳۸