ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 190

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۰ جلد چهارم ۱۱ فروری ۱۹۰۳ء بروز چهارشنبه عرش کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف: ۵۵) کے کیا معنے ہیں اور عرش کیا شے ہے؟ فرمایا کہ اس کے بارے عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث عبث ہے میں لوگوں کے مختلف خیالات ہیں کوئی ۔ کی تو اسے مخلوق کہتا ہے اور کوئی غیر مخلوق لیکن اگر ہم غیر مخلوق نہ کہیں تو پھر استوئی باطل ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث ہی عبث ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ درجے کی بلندی کو بیان کیا ہے یعنی ایک ایسا مقام جو کہ ہر ایک جسم اور ہر ایک نقص سے پاک ہے اور اس کے مقابلہ پر یہ دنیا اور تمام عالم ہے کہ جس کی انسان کو پوری پوری خبر بھی نہیں ہے۔ ایسے مقام کو قدیم کہا جا سکتا ہے۔ لوگ اس میں حیران ہیں اور غلطی سے اسے ایک مادی تھے خیال کرتے ہیں۔ اور قدامت کے لحاظ سے جو اعتراض لفظ ثمر کا آتا ہے تو بات یہ ہے کہ قدامت میں تم آجاتا ہے جیسے قلم ہاتھ میں ہوتا ہے تو جیسے قلم حرکت کرتا ہے ویسے ہاتھ حرکت کرتا ہے مگر ہاتھ کو تقدم ہوتا ہے۔ آر یہ لوگ خدا کی قدامت کے متعلق اہل اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کا خدا چھ سات ہزار برس سے چلا آتا ہے یہ ان کی غلطی ہے۔ اس مخلوق کو دیکھ کر خدا کی عمر کا اندازہ کرنا نادانی ہے۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ آدم سے اوّل کیا تھا اور کسی قسم کی مخلوق تھی۔ اس وقت کی بات وہی جانے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ (الرحمن: ۳۰) وہ اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دیوے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔ خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتا لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں ہے اور استعارات کو ظاہر پر حمل کر کے مشہورات پر لانا بھی ایک نادانی ہے اس کی صفت ہے لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ